صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 357 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 357

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۵۷ ١٣ - كتاب العيدين میں حضرت علی اور ان کے ساتھیوں پر طعن و تشنیع ہوتی۔ نماز ختم ہوتے ہی لوگ منتشر ہو جاتے تھے۔ سبب کچھ بھی ہو یہ ان امراء کی کمزوری تھی۔ اس کی وجہ سے سنت نبویہ میں معمولی سا تغیر و تبدل کرنا بھی امام بخاری کے نزدیک جائز نہیں۔ عید کھلے میدانوں میں پڑھی جاتی تھی۔ منبر اٹھوا کر عید گاہ میں پہنچانا یا منبر بنوانا اور اس کی حفاظت کرنا یہ بات باتیں تکلیف کا موجب ہیں۔ منبر ایسی شئے نہیں کہ وہ عبادت کے لئے لازمی قرادی دیا جائے۔ بَاب : الْمَشْيُ وَالرُّكُوبُ إِلَى الْعِيْدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ عید کو چل کر اور سوار ہو کر جانا بغیر اس کے کہ اذان یا تکبیر اقامت ہو ٩٥٧: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۹۵۷: ابراهیم بن منذر ( حزامی) نے ہم سے بیان قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعِ کیا، کہا: انس (بن عیاض) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ عبید اللہ (عمری) سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدَ اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں (پہلے) نماز الصَّلَاةِ۔ اطرافه: ٩٦٣۔ پڑھتے اور پھر نماز کے بعد لوگوں سے مخاطب ہوتے۔ ٩٥٨ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۹۵۸ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ہشام نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی۔ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ وہ کہتے تھے:عطاء نے مجھے بتایا۔ حضرت جابر بن بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ عبد الله (انصاری) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ میں نے ان سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ۔ وسلم عیدالفطر کے دن نکلے، خطبے سے پہلے نماز پڑھی۔ اطرافه: ٩٦١، ٩٧٨ ٩٥٩ : قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ ابْنَ ۹۵۹: (ابن جریج) کہتے تھے: اور عطاء نے مجھے بتایا عَبَّاسٍ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي أَوَّلِ که حضرت ابن عباس نے حضرت ابن زبیر کو جب مَا يُؤْيِعَ لَهُ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ ان کی بیعت کی گئی کہلا بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ کے