صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 356
حيح البخاری جلد ۲ ۳۵۶ ۱۳ - كتاب العيدين قَطَعَهُ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ ثُمَّ اس طرح کرتے رہے۔یہاں تک کہ میں مروان کے يَنْصَرِفُ قَالَ أَبُو سَعِيْدٍ فَلَمْ يَزَل ساتھ جو مدینہ کا حاکم تھا؛ عیدالاضحی یا عید الفطر کے لئے النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ لكلا۔جب ہم عید گاہ میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ نکلا۔مَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي أَضْحَى وہاں ایک منبر ہے جس کو کثیر بن صلت نے بنوایا تھا اور أَوْ فِطْرٍ فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ (کہا: ( مروان اس پر نماز پڑھنے سے پہلے چڑھنا بَنَاهُ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ فَإِذَا مَرْوَانُ يُرِيْدُ چاہتا ہے۔میں نے اس کو کپڑے سے کھینچا تو اس نے أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَجَبَذَتْ مجھے بیچ لیا اور منبر پر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ بِقَوْبِهِ فَجَبَدَنِي فَارْتَفَعَ فَخَطَبَ قَبْلَ پڑھا۔میں نے کہا اللہ کی قسم اتم نے (سنت کو ) بدل ڈالا۔اس نے جواب دیا: ابوسعید اب وہ (زمانہ) الصَّلَاةِ فَقُلْتُ لَهُ غَيَّرْتُمْ وَاللَّهِ فَقَالَ أَبَا گذر گیا جس کو تم جانتے ہو۔میں نے کہا: بخدا جس سَعِيدٍ قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ فَقُلْتُ مَا أَعْلَمُ زمانہ کو میں جانتا ہوں۔وہ اس زمانہ سے بہتر ہے جس وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا لَا أَعْلَمُ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ کو میں نہیں جانتا۔انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ لوگ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلَاةِ نماز کے بعد ہمارے لیے بیٹھتے نہیں۔اس لئے میں فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ۔اطرافه: ٣٠٤ ١٤٦٢، ١٩٥١، ٢٦٥٨ تشریح: نے خطبہ نماز سے پہلے کر دیا ہے۔الْخُرُوجُ إِلَى الْمُصَلَّى بِغَيْرِ مِنْبَرِ : روایت نمبر ۶ ۹۵ سے ظاہر ہے کہ حضرت ابوسعید خدری نے منبر کے ہونے یا نہ ہونے پر اعتراض نہیں کیا بلکہ نماز عید سے پہلے خطبہ پڑھنے کو قابلِ اعتراض سمجھا ہے۔امام بخاری کے نزدیک نہ صرف مروان بن حکم کا مذکورہ بالا عمل ہی بلکہ منبر کا عید گاہ میں رکھا جانا بھی خلاف سنت ہے۔نیز یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عید گاہ میں منبر نہ ہوتا تھا یہ بھی بعد میں شروع ہوا اگر چہ اس کا تعلق احکام شریعت سے نہیں اس لحاظ سے بدعت قرار نہیں پاتا۔گویا عبادات مشروعہ میں کسی قسم کا تصرف ان کے نزدیک جائز نہیں۔سابقہ دو ابواب کے تسلسل میں یہ باب قائم کیا گیا ہے اور اس سے یہ سمجھنا مطلوب ہے کہ دینی امور میں اپنی مرضی سے کوئی تصرف نہ ہو۔اگر عبادات مشروعہ میں آزادی رائے کی تھوڑی سی گنجائش دی جائے تو وہ عبادتیں تھوڑے ہی عرصے میں کچھ کی کچھ بن جائیں گی۔امام شافعی نے اس تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے بعض روایات کی بناء پر یہ بیان کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے عید کا خطبہ نماز سے پہلے پڑھا تھا۔مروان چونکہ ان کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا اس لئے اس نے بھی ایسا ہی کیا۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۸۲ زیر تشریح باب ۷) ان لوگوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اصل مقصود لوگوں کو وعظ ونصیحت کرنا ہے۔خواہ پہلے ہو یا بعد اور اس تبدیلی کی ضرورت ان کو اس لئے پیش آئی تھی کہ ان کے خطبوں