صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 21
صحيح البخاري - جلد ۲ ۲۱ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ۱۲ : الْأَذَانُ بَعْدَ الْفَجْرِ فجر کے بعد اذان دینا ٦١٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۱۸ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّ رَسُولَ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ۔ انہوں ۔ کی۔ نے کہا الله ﷺ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ الْمُؤَذِّنُ که حضرت حفصہ نے مجھے بتایا کہ جب مؤذن صبح کی صل الله رغم لِلصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ اذان دے کر بیٹھ جاتا اور صبح نمودار ہوتی تو رسول اللہ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی سی دور کعتیں پڑھتے ، پیشتر اس اطرافه: ۱۱۷۳، ۱۱۸۱۔ کے کہ باجماعت نماز شروع کی جاتی۔ ٦١٩ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۶۱۹ : ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ہمیں بتایا۔ انہوں نے بچی سے بچی نے ابو سلمہ سے، عَائِشَةَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابوسلمہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَيْنَ اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں اذان اور اقامت کے النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ درمیان ہلکی سی دور کعتیں پڑھا کرتے تھے۔ اطرافه: ١١٥٩، ١١٦٤ ۔ ٦٢٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۲۲۰ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی سے ، عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ ابھی رات ہوتی ہے کہ بلال اذان دیتا ہے۔ تم کھاؤ أُمِّ مَكْتُوْمٍ ۔ اور پیو؛ یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔ اطرافه ۶۱۷، ۶۲۳، ۱۹۱۸، ٢٦٥٦ ، ٧٢٤٨۔