صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 343
صحيح البخاری جلد ۲ ١٢ - كتاب الخوف يَسُرُّنِي بِتِلْكَ الصَّلَاةِ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا ۔ ( بن مالک) کہتے تھے کہ اس نماز کے عوض میں دنیا اور جو بھی نعمتیں اس میں ہیں مجھے خوش نہیں کر سکتیں ۔ ٩٤٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا :۹۴۵ یکی نے ہم سے بیان کیا، کہا: وکیچ نے ہمیں وَكِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٌ عَنْ يَحْيَى بتایا۔ انہوں نے علی بن مبارک سے علی نے یحی بن ابی بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ كثيرے بچی نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بن عبد الله (انصاری) سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَيَقُوْلُ يَا حضرت عمرؓ خندق کے دن آئے اور کفار قریش کو برا بھلا رَسُوْلَ اللهِ مَا صَلَّيْتُ الْعَصْرَ حَتَّی کہنے لگے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! میں نے عصر کی نماز كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِيْبَ فَقَالَ النَّبِيُّ نہیں پڑھی۔ مگر اس و ی۔ مگر اس وقت کہ جب سورج غروب ہونے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَاللَّهِ مَا کے قریب تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے صَلَّيْتُهَا بَعْدُ قَالَ فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ بھی بخدا ابھی تک نہیں پڑھی۔ (حضرت جابر) کہتے فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ تھے : آپ بطحان ( کے میدان ) میں گئے اور آپ نے الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا۔ وضو کیا اور عصر کی نماز سورج غروب ہونے کے بعد اطرافه: ٥٩٦، ٥٩٨، 641، ٤١١٢۔ پڑھی۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ تشريح : أَخْرُوُا الصَّلَاةَ حَتَّى يَنْكَشِفَ الْقِتَالُ: جن کا وقت نہایت نازک ہوتا ہے۔ ایک بھی بھر کی غفلت حاصل کردہ فتوحات کو شکست میں آنا فانا تبدیل کر سکتی ہے۔ ایسی نازک حالی ایسی نازک حالت میں نبی صلى الله عروسه نے نماز میں تاخیر کی اور جہاد کو نماز پر مقدم فرمایا اور صحابہ کرام نے بھی ایسا ہی کیا۔ عہد نبوی اور مابعد کے مختلف فتوے عنوانِ باب میں نقل کر کے حضرت انس کی روایت کا حوالہ دیا ہے۔ اس حوالہ سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ صحابہ کرام کا نقطہ نظر مفتیوں سے کے نقطہ نظر سے جدا ہے۔ ایسی نماز جو جو بوجہ بوجہ نزاکت نزاکت موقع موقع بعد بعد از از وقت وقتہ پڑھی گئی؟ صحابہ کرام کے نزدیک دنیا کی تمام نعمتوں ۔ محبوب ترین تھی۔ کیونکہ وہ فتح کے بعد پڑھی گئی اور شکریہ کے سارے جذبات سے پر تھی۔ نماز میں مشار الیہ تاخیر عمداً نہیں کی گئی تھی ۔ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الصَّلوة ان کے لئے نماز پڑھنا ممکن نہ تھا۔ شدت جنگ کی وجہ سے باوجود کوشش کے نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا عمل صالح وہ عمل ہے جو باقتضائے حال و وقت برمحل و موقع ہو۔