صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 323 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 323

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۳ ۱۱ - كتاب الجمعة فَأَعْطَى رِجَالًا وَ تَرَكَ رِجَالًا : روایت نمبر ۱۹۲۳، کتاب فرض الخمس باب ۱۹ روایت نم الخمس باب ۹ روایت نمبر ۳۱۴۵ میں بھی آئے گی۔ وہاں یہ ذکر ہے کہ آپ نے بعض کو تالیف قلب کی غرض سے دیا اور بعض کو نہیں دیا۔ جس سے آپ کے اختیار و تصرف کی وسعت اور بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔ وہاں اس کی مزید تشریح دیکھئے۔ الله روایت نمبر ۹۲۴ کے لیے کتاب صلاۃ التراویح تشریح باب اروایت نمبر ۲۰۱۲ بھی دیکھئے۔ اور روایت نمبر ۹۲۵ کے تعلق میں قارئین کئی جگہ آنحضرت ﷺ کے خطبات میں فقرہ اما بعد دیکھیں گے۔ روایت نمبر ۹۲۶ کے لئے دیکھئے کتاب النکاح عليه باب ۱۰۹ روایت نمبر ۵۲۳۰، جہاں حضرت علی کے ابو جہل کی بیٹی سے ارادہ نکاح کا ذکر ہے۔ روایت نمبر ۹۲۷ کے لئے دیکھئے کتاب مناقب الانصار باب اروایت نمبر ۳۸۰۰ ۔ یہاں یہ روایتیں مجمل ہیں، لیکن مذکورہ بالا ابواب میں مفصل ۔ ان تمام روایات سے پایا جاتا ہے کہ الفاظ اما بعد خطبہ جمعہ کے ساتھ مخصوص نہ تھے۔ شاہان روم و فارس کو جو خطوط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائے۔ ان میں بھی یہ الفاظ استعمال کئے گئے ۔ (دیکھئے روایت نمبرے ) بَاب ٣٠ : الْقَعْدَةُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ جمعہ کے دن دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنا ۹۲۸ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۲۸ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بشر بن مفضل بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ (عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ نے حضرت عبداللہ بن عمر) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے پڑھتے ۔ جن کے يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا ۔ اطرافه ۹۲۰ درمیان آپ بیٹھتے ۔ تشريح الْقَعْدَةُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: یہ وقفہ ن صرف ستانے کی غرض سے بکہ سننے والوں کے ذہن کو بھی آرام دینے کے لئے ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل حق و حکمت پر مبنی تھا۔ انسان دیر تک توجہ قائم نہیں رکھ سکتا اور خطبہ جمعہ کو توجہ سے سننے کی تاکید کی گئی ہے۔ جیسا کہ اگلے باب کے عنوان سے واضح ہے۔ امام بخاری نے ان دو ابواب کی ترتیب میں غالبا یہی امر ملحوظ رکھا ہے۔