صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 316
صحيح البخاری جلد ۲ تشریح: ۳۱۶ ١١ - كتاب الجمعة اِسْتِقْبَالُ النَّاسِ الْإِمَامَ : امام جب گفتگو کر رہا ہو تو اس کی مجلس میں بیٹھ کر ادھر ادھر دیکھنا نا پسندیدہ فعل ہے۔آداب مجلس میں سے ایک ضروری ادب یہ بھی ہے کہ امام کی طرف متوجہ ہوکر اس کی بات سنی جائے۔عنوان باب میں حضرت ابن عمرؓ اور حضرت انس کے حوالے دیئے گئے ہیں کہ ان دونوں کی یہ عادت تھی کہ امام جب خطبہ کے لیے کھڑا ہوتا تو وہ اس کی طرف منہ کر کے متوجہ ہو جاتے۔حضرت ابن عمر سے متعلق روایت بیہقی رحمہ اللہ علیہ کی ہے جو انہوں نے بسند ابن عجلان اور انہوں نے نافع سے نقل کی ہے اور حضرت انس سے نعیم بن حماد کی۔(سنن الكبرى للبيهقى كتاب الجمعة باب يحول الناس وجوههم الى الامام جزء ۳ صفحه ۱۹۹) امام بخاری نے روایت نمبر ۹۲۱ پیش کر کے صحابہ کے عمل کی طرف توجہ دلائی ہے۔روایت نمبر ۹۲۱ ایک لمبی روایت کا ٹکڑا ہے جو کتاب الزکوۃ میں مروی ہے۔دیکھئے کتاب الزکوۃ باب ۴۷: الصدقۃ علی الیتامی روایت نمبر ۱۴۶۵۔بَاب ۲۹ : مَنْ قَالَ فِي الْخُطْبَةِ بَعْدَ الثَّنَاءِ أَمَّا بَعْدُ حمد و ثناء کے بعد خطبہ میں جو شخص کہے: أَمَّا بَعْدُ رَوَاهُ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاس عَنِ النَّبِيِّ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے یہ روایت نقل کی۔حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۹۲۲: وَقَالَ مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا :۹۲۲ اور محمود نے کہا کہ ابواسامہ نے ہم سے بیان أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ کیا ، کہا : ہم کو ہشام بن عروہ نے بتایا، کہا: فاطمہ بنت قَالَ أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ عَنْ منذر نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ دَخَلْتُ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَالنَّاسُ کے پاس گئی لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔میں نے کہا: يُصَلُّوْنَ قُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ لوگوں کی یہ کیا حالت ہے؟ انہوں نے اپنے سر سے بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ آيَةٌ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔میں نے کہا: کیا کوئی نشانِ الہی ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔یعنی فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ قَالَتْ فَأَطَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِدًّا ہاں۔کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت لمبی ( نماز ) پڑھائی۔یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی اور میرے حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ وَإِلَى جَنْبِي قِرْبَةٌ قَریب ایک مشک تھی جس میں کچھ پانی تھا۔میں نے وہ فِيْهَا مَاءً فَفَتَحْتُهَا فَجَعَلْتُ أَصْبُ مِنْهَا کھولی اور اس سے اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی اتنے میں