صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 306
صحيح البخاری جلد ۲ باب ۱۹: لَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ جمعہ کے دن دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے ۱۱ - كتاب الجمعة ۹۱۰ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ :۹۱۰ عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ (بن اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِتْبٍ عَنْ سَعِيْدٍ (مبارک) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب نے الْمَقْبُرِي عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ وَدِيْعَةَ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے اپنے سَلْمَانَ الْفَارِسِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ باپ سے، ان کے باپ نے (عبداللہ ) بن ودیعہ سے، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ ابن ودیعہ نے حضرت سلمان فارسی سے روایت کی کہ الْجُمُعَةِ وَتَطَهَّرَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرِثُمَّ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوشخص جمعہ نے ادَّهَنَ أَوْ مَسَ مِنْ طِيْبِ ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ يُفَرِّق بَيْنَ اثْنَيْنِ فَصَلَّى مَا كُتِبَ لَهُ ثُمَّ إِذَا خَرَجَ کے دن نہاتا ہے اور جہاں تک ہو سکتا ہے نہا دھو کر پاک وصاف ہو جاتا ہے اور تیل یا خوشبولگاتا ہے۔پھر جمعہ کو جاتا ہے اور دو آدمیوں کے درمیان نہیں گھستا اور الْإِمَامُ أَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ جس قدر اس کے لئے مقدر ہے نماز پڑھتا ہے۔پھر الْجُمُعَة الْأُخْرَى۔اطرافه: ۸۸۳ اس کے بعد جب امام نکلتا ہے تو وہ خاموشی سے سنتا ہے تو جو گناہ اس جمعہ سے سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہوں گے ان کی مغفرت کی جائے گی۔تشریح : لَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : مذکورہ بالا ادوب، آداب مجالس میں سے ایک ضروری ادب ہے، جس کا جمعہ کے دن جبکہ لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے ملحوظ رکھنا از بس لازم ہے۔دائرہ اجتماع میں داخل ہو کر انسان اپنی نقل وحرکت میں آزاد نہیں رہ سکتا۔بلکہ اسکو قواعد کا پابند ہونا پڑتا ہے اور شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق اپنی ہر تعلیم میں اس اصل کو مد نظر رکھا ہے اور معاشرہ اسلامیہ کے لئے ایک بہترین ضابطہ ادب تجویز فرمایا ہے۔اگلے باب میں بھی اسی قسم کا ایک اور ادب سکھایا گیا ہے۔غُفِرَ لَهُ : مغفرت کی تشریح کتاب الجمعہ باب ۶ کی تشریح میں دیکھئے۔