صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 302 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 302

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۲ ١١ - كتاب الجمعة أَمِيرُ الْجُمُعَةَ ثُمَّ قَالَ لِأَنَسِ والا الله كَيْفَ نے کہا کہ ایک امیر نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی۔پھر كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي الظُّهْرَ۔انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کس وقت پڑھتے تھے۔تشریح: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : عنوان باب میں جملہ شرطیہ کا جواب اثبات یا نفی میں نہیں دیا گیا جس کی وجہ یہ ہے جو روایت حضرت انس سے نمبر ۹۰۶ میں مروی ہے۔اس میں قیاس سے کام لیا گیا ہے۔حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت کا ذکر کیا ہے اور راوی نے نماز جمعہ کو نماز ظہر پر قیاس کیا ہے کہ اگر سخت گرمی ہو تو وہ بھی ٹھنڈے وقت پڑھنی چاہیے۔چنانچہ یونس بکیر نے ابو خلدہ کی یہی روایت نقل کی ہے اور اس میں جمعہ کا لفظ نہیں اور اس قیاس کی ایک معقول وجہ بھی ہے جو امام بخاری نے بشر بن ثابت کے حوالے سے واضح کی ہے۔جمعہ پڑھانے والے امیر حکم بن ابی عقیل تھے وہ بصرہ میں اپنے چچا زاد بھائی حجاج بن یوسف کے نائب تھے۔یہ دونوں بالعموم خطبہ لمبا پڑھا کرتے تھے۔ایک موقعہ پر خطبہ معمول سے لمبا ہو گیا۔یہاں تک کہ لوگوں کو وقت نکل جانے کا خوف ہوا۔یزید فہمی نے حکم بن ابی عقیل " کو توجہ دلائی جس پر انہوں نے حضرت انس سے پوچھا اور حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا حوالہ دیا اور بتایا کہ گرمیوں میں ٹھنڈے وقت میں آپ نماز پڑھا کرتے تھے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۰۱،۵۰۰) (عمدۃ القاری جزء ۶ صفحه ۲۰۲ ۲۰۳) امام بخاری نے حضرت انس کے اس قول سے سابقہ باب کے مضمون پر مزید روشنی ڈالی ہے کہ اگر نماز جمعہ زوال سے پہلے پڑھنی جائز ہوتی تو پھر گرمی کی وجہ سے ٹھنڈے وقت تک نماز میں تاخیر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔شدت گرمی کی وجہ سے بجائے تاخیر کرنے کے زوال سے پہلے جمعہ پڑھ لیا جا تا۔حنابلہ جو کہ جمعہ زوال سے پہلے پڑھنے کے قائل ہیں ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جمعہ کو عید کہا گیا ہے اور عید کی نماز زوال سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔(بداية المجتهد - كتاب الصلاة - باب الثالث من الجملة الثالثة - الفصل الثاني في شروط الجمعة) مگر تشریح باب نمبرا میں بتایا جا چکا ہے کہ اس تشبیہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ عید کے احکام بھی کلیۂ جمعہ پر عائد ہوتے ہوں۔عیدین میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔جمعہ کے دن روزہ رکھا جاسکتا ہے۔مذکورہ بالا واقعہ سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام مسائل میں اس قسم کی سختی اختیار نہیں کرتے تھے جو بعد میں کی گئی۔وہاں یہ امر بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو امیر کی عزت کا پورا پورا احساس تھا اور ان پر اعتراض کرنا خلاف ادب جانتے تھے۔حضرت انس کے جواب میں در پردہ یہی روح تھی اور یزید نبی کے اعتراض کرنے پر یہ جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ٹھنڈے وقت تک نماز میں تاخیر فرمایا کرتے تھے۔صحابہ کرام کا تزکیہ نفس جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ تربیت سے ہوا ان کے تمام حرکات وسکنات سے نمایاں ہے۔