صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 288 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 288

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۸ ۱۱ - كتاب الجمعة باب ۹ : مَنْ تَسَوَّكَ بِسِوَاكِ غَيْرِهِ جو دوسرے کی مسواک استعمال کرے ۸۹۰: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۸۹۰: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: سلیمان حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ قَالَ قَالَ بن بلال نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: ہشام بن عروہ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ کہتے تھے: میرے والد نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ کہتی تھیں : حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر آئے اور ان عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكَ ان کے پاس ایک يَسْتَنُّ بِهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى مسواک تھی جس سے وہ دانت صاف کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا ۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ أَعْطِنِي هَذَا میں نے ان سے کہا: عبدالرحمن یہ مسواک مجھے دے السّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْطَانِيهِ ہو۔ انہوں نے مجھے وہ دے دی۔ میں نے اسے توڑا رو۔ فَقَصَمْتُهُ ثُمَّ مَضَعْتُهُ فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ پھر میں نے دانتوں سے چبائی اور رسول اللہ صلی اللہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ بِهِ علیہ وسلم کو دی۔ آپ نے اس سے دانت صاف کئے وَهُوَ مُسْتَئِدٌ إِلَى صَدْرِي۔ اور آپ میرے سینہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اطرافه: ۱۳۸۹، ۳۱۰۰، ۳۷۷۴، ٤٤٣٨ ، ٤٤٤٦ ، ٤٤٤٩ ، ٤٤٥٠، ٤٤٥١، ٥٢١٧، ٦٥١٠۔ الله تشریح : مَنْ تَسَوَّكَ بِسِوَاكِ غَيْرِه: روایت نمبر ۹۰ کاواقعہ بیصلی الہ علیہ وسلم کی آخری بیماری en کے ایام کا ہے۔ آپ بیماری سے نڈھال ہیں۔ ہاتھوں میں سکت نہیں گویائی کی طاقت نہیں ۔ ایسی نازک حالت میں مسواک پر معنی خیز نظر پڑتی ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کی اس نظر کو سمجھ جاتیں ہیں اور پوچھتی ہیں کہ مسواک چاہیے؟ آپ اشارے سے جواب دیتے ہیں کہ ہاں ۔ مگر مسواک کو چبا کر نرم کرنے کی طاقت نہیں۔ حضرت عائشہ اس کو چبا کر نرم کرتی ہیں اور پھر آپ کے استعمال میں آئی۔ یہ واقعہ پیش کر کے امام بخاری نے سابقہ مضمون کی اہمیت واضح کی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محض تاکید پر اکتفا کرنا اور اس کو فرضیت کی صورت نہ دینا بتاتا ہے کہ آپ شریعت کے احکام نافذ کرنے میں جہاں تک گنجائش ہوتی امت کے لئے سہولت اختیار کرتے سوائے ان امور کے جن کی فرضیت کی بابت اللہ تعالیٰ کا صریح حکم تھا جیسے نماز فریضہ کا باجماعت ادا کرنا ، اس میں آپ نے اکیلے انسان کو بھی جنگل میں