صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 289 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 289

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۹ ١١ - كتاب الجمعة سہولت نہیں دی کہ وہ اکیلا نماز پڑھے بلکہ فرمایا کہ وہاں بھی وہ اذان دے کر با جماعت نماز کی نیت کر کے خود امام ہو اور نماز فریضہ ادا کرے۔(اس تعلق میں دیکھئے روایت نمبر ۶۰۹) مسلمان کے ذہن کو اس تصور سے ایک لمحہ کے لئے بھی خالی نہیں رہنے دیا کہ وہ جماعت سے الگ رہ کر نماز فریضہ ادا کر سکتا ہے۔(دیکھئے کتاب الاذان تشریح باب ۲۹ تا باب ۴۱) بَاب ١٠ : مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ جمعہ کے روز صبح کی نماز میں کون سی (سورۃ ) پڑھی جائے؟ ۸۹۱: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا :۸۹۱ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَبْدِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعد بن ابراہیم الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ هُرْمُزَ عَنْ أَبِي سے سعد نے عبدالرحمن بن ہرمز سے، عبدالرحمن نے هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ لا يَقْرَأُ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں هِ فِي الْجُمُعَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ الْمَ تَنْزِيلُ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز صبح کی نماز السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ۔اطرافه ١٠٦٨ تشریح میں الم تَنْزِيلُ السجدہ اور هَلْ أَتَى عَلَى الإِنسان پڑھا کرتے تھے۔مَا يُقْرَءُ فِى صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: فقہاء نے جمعہ کے دن سورۃ الم السجدہ پڑھنے کی نسبت اختلاف کیا ہے۔بعض مالکی تو مطلق نماز فریضہ میں ایسی سورۃ پڑھنا مکروہ سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے مقررہ سجدوں سے زائد سجدہ کرنا پڑے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۸۶) مگر امام بخاری کے نزدیک مذکورہ بالا روایت باعتبار سند صحیح ہے اور سورہ السجدہ وغیرہ پڑھنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنا ایسا ضروی ہے جیسا کہ جمعہ کے دن نہانا، خوشبو لگانا اور مسواک کرنا وغیرہ قطع نظر اس سے کہ یہ باتیں فرض وجوب ہیں یا مستحب ومندوب۔باب ۱۱ : الْجُمُعَةُ فِي الْقُرَى وَالْمُدْنِ گاؤں اور شہروں میں جمعہ پڑھنا ۸۹۲: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ :۸۹۲ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرِ الْعَقَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابوعامر عقدی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الصُّبَعِي طہمان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو جمرہ ( نضر بن