صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 287 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 287

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۷ ١١ - كتاب الجمعة النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ ابووائل (بن شفیق) سے۔ابووائل نے حضرت اللَّيْلِ يَسُوصُ فَاهُ۔حذیفہ بن یمان) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو اطرافه ٢٤٥، ١١٣٦ آپ اپنے دانت مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔اَلسّوَاكُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : عنوان باب میں حضرت ابوسعید خدری کی جس روایت کی طرف اشارہ تشریح کیا گیا ہے وہ نمبر ۸۸ میں گذر چکی ہے۔اس روایت کا حوالہ دینے سے امام بخاری کا مقصد غالبا اس اختلاف کی طرف اشارہ کرنا ہے جو حضرت ابو سعید کے الفاظ کی بناء پر مسواک کے واجب ہونے یا نہ ہونے کی نسبت فقہاء کے درمیان پیدا ہوا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۸۳ - مشار الیہ روایت کے الفاظ میں وجوب کا ذکر ہے۔اس باب کی تینوں روایتوں سے صاف ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کرنے کی نسبت جو صیغہ امر میں حکم دیا ہے۔یہ حکم فرض وجوب نہیں۔جیسا کہ وضو جو صحت نماز کے لئے بطور شرط ضروری ہے۔لیکن اس کے باوجود اس میں شک نہیں کہ آپ نے مسواک کے بارہ میں از بس تاکید فرمائی اور اپنے قول و فعل سے اپنی امت کو اس کے وجوب کی طرف توجہ دلائی ہے۔روایت نمبر ۷ ۸۸، ۸۸۸ میں آپ کی قولی تاکید کا ذکر ہے اور نمبر ۸۸۹ میں آپ کے عملی التزام و اہتمام کا۔آخری بیماری میں بھی آپ غایت درجہ کمزور ہو چکے تھے۔آپ نے مسواک کی لیکن افسوس ہے کہ جس قدر تاکید آپ نے مسواک کے بارہ میں فرمائی تھی اسی قدر مسلمانوں نے آج تساہل سے کام لیا ہے۔شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے سارے احکام بنی نوع انسان کے لئے موجب رحمت ہیں اور علمی اکتشافات ان احکام کی حقیقت واضح سے واضح کرتے چلے جارہے ہیں۔جدید طب نے تو فیصلہ کر دیا ہے کہ نہ صرف مسوڑھوں دانتوں اور گلے بلکہ معدہ اور متعلقہ اندرونی اعضاء جگر و طحال وغیرہ کی بہت سی بیماریوں کا اصل سبب دانتوں کی عدم صفائی ہے۔جس کی وجہ سے جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور جسم کے اندرزہریلے مرکز بناتے ہیں۔محولہ بالا روایتوں میں جمعہ کے دن مسواک کرنے کا ذکر نہیں بلکہ علی الاطلاق تاکید ہے۔لیکن جمعہ کا دن بطریق اولی اس میں شامل ہے۔مذکورہ بالا روایت کے انتخاب سے امام موصوف در حقیقت اسی تاکید کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنے کے بارہ میں عام طور پر فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ مابعد کا باب قائم کر کے مسواک کی اہمیت پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تھی۔