صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 281
صحيح البخاری جلد ۲ PAL ۱۱ - كتاب الجمعة ۸۸۲ بابه حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ :۸۸۲: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى { هُوَ ابْنُ أَبِي ہمیں بتایا۔انہوں نے سجی سے (جو ابو کثیر کے بیٹے عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہیں۔کسی نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت أَنَّ عُمَرَ اللهُ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ حضرت عمر الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ عُمَرُ لِمَ ) بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن لوگوں سے تَحْتَبِسُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ مخاطب تھے کہ اسی اثناء میں ایک آدمی آیا۔حضرت مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ عمر بن خطاب) نے پوچھا: تم لوگ نماز سے کیوں فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ رک جاتے ہو؟ اس شخص نے کہا: کوئی اتنی دیر نہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى ہوئی اذان سنی ہے اور وضو کیا ہے۔اس پر انہوں نے کہا: کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔آپ الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ۔اطرافه: ۸۷۸ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لئے نکلے تو چاہیے کہ وہ نہالے۔تشریح : إذَارَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلُ : باب۵،۴،۳، ۶ میں دراصل لفظ وجوب کا سابقہ مفہوم مزید مثالوں سے واضح کیا گیا ہے۔یعنی جمعہ کے دن غسل کرنا مسواک کرنا اور خوشبو لگانا بطور افضل ہونے کے ضروری ہیں مگر فرض نہیں کہ بغیر ان کے نماز ہی نہ ہو۔سابقہ مضمون کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے باب ۲ میں جمعہ کے دن نہانے کی فضیلت کا اعادہ باب ۴ میں کیا گیا ہے اور باب ۵ کا کوئی نیا عنوان نہیں۔بلکہ اس میں حضرت عمر اور حضرت عثمان کا واقعہ ایک اور سند سے دہرایا گیا ہے۔باب نمبر کی روایت نمبر ۸۸۴ میں خوشبو لگانے کی نسبت بھی اسی طرح امر کا صیغہ مروی ہے جس طرح غسل کے لئے۔ان ابواب میں امام بخاری نے جہاں جمعہ کے دن صفائی و پاکیزگی سے متعلق اسلامی آداب بیان کئے ہیں وہاں مسئلہ وجوب اور عدم وجوب پر بھی روشنی ڈالی ہے۔الفاظ هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں (فتح الباری جز رثانی حاشیہ صفحہ ۴۷۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔