صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 280
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۰ ١١ - كتاب الجمعة رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةٌ وَمَنْ رَاحَ فِي جاتا ہے اور پھر (جمعہ کے لیے ) چل پڑا۔اس نے السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَة وَمَنْ گویا ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو دوسری گھڑی میں رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ چلا، اُس نے گویا ایک گائے کی قربانی کی اور جو تیسری كَبْشًا أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ گھڑی میں چلا، اُس نے گویا ایک سینگوں والا مینڈھا الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں چلا تو اس نے گویا ا رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا ایک مرغی کی قربانی کی اور جو پانچویں گھڑی میں چلا تو قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ اس نے گویا ایک انڈا قربانی میں دیا۔جب امام نکلتا الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُوْنَ الذِكْرَ۔ہے تو فرشتے وعظ ونصیحت سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔تشریح : فَضْلُ الْجُمُعَةِ: حدیث نمبر ۸۸ سے مراد یہی ہے کہ اعمال کے تفاوت کی بناء پر ہر شخص کو کم وبیش ثواب ہو گا۔یہ حدیث بھی اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ( روایت نمبرا) کی تشریح ہے۔جس کو جمعہ کا زیادہ اہتمام ہوگا ، وہ اسی قدر جلدی آئے گا اور جس کو کم اہتمام ہو گا وہ دیر سے آئے گا۔اسی تفاوت کی بناء پر انسان کا قدم قرب الہی میں آگے یا پیچھے ہوتا ہے۔قربانی کی تمثیل سے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود بالذات ہے۔مال، راحت، وقت اور ہر پیاری چیز کی قربانی ہی اللہ تعالیٰ کے قرب کا باعث ہوتی ہے۔مذکورہ بالا حدیث میں اونٹ وغیرہ کی قربانی کا ذکر تمثیلا ہے، جیسا کہ فکانما کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں۔اس تعلق میں تشریح باب ا۳ بھی دیکھئے۔عُسُلُ الْجَنَابَةِ یعنی اچھی طرح نہائے۔جس طرح جنابت میں انسان اپنے بدن کو اچھی طرح صاف کرتا ہے اس بات کی وضاحت روایت نمبر ۸۸۳ کے الفاظ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهُرٍ سے بھی ہوتی ہے۔یہ نہ کرے کہ سر پر پانی انڈیل لے۔حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ : ملائکہ چونکہ محرک نیکی ہیں اس لئے وعظ ونصیحت اور دعاؤں کے اوقات میں ان کی موجودگی سے یہ مراد ہے کہ اس وقت انسان کے لئے موقع ہوتا ہے کہ وہ ان کی تحریکوں سے فائدہ اٹھائے۔ملائکہ کے ذکر الہی اور وعظ میں شریک ہونے سے یہی مراد ہے کہ اس وقت وہ نیک دلوں کو متوجہ رکھتے ہیں۔وعظ ونصیحت سے جو ذکر الہی کی کیفیات دل میں پیدا ہوتی ہیں، وہ ان ملکی قومی کا نتیجہ ہیں جو انسان کے اندر رکھے گئے ہیں۔تفصیل کے لئے تو ضیح مرام صفحه ۳۷ تا ۵۰- روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۵ تا ۹۸، آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵ حاشیہ صفحہ ۱۸ تا۲۱۴ بھی دیکھئے۔