صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 11
صحيح البخاری جلد ۲ || ١٠ - كتاب الأذان کہ اس خاص گھڑی میں ہتھیار روک لئے جائیں۔ آپ کا یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی لڑائی کسی نفسانی غرض کے لئے ہرگز نہ تھی۔ کیونکہ نفسانی غرض سے لڑنے والے کسی حرمت کی پاسداری نہیں کیا کرتے۔ آئے دن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ غیر مسلم اقوام دعوئی تو یہ کرتی ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ سے سچی محبت ہے اور حال یہ ہے کہ ایک مسلم کو اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے سن کر ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ کیا محبت الہی کا تقاضا یہی ہوا کرتا ہے؟ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذِرِينَ ۔ ( یہ حصہ سورة الصافات، آیت: ۱۷۸ سے ماخوذ ہے) جب ہم کسی قوم کے آنگن میں ڈیرہ لگاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کی صبح بہت ہی بری ہوتی ہے جو قبل از وقت خطرے سے آگاہ کر دیئے گئے ہوں۔ باب ۷ : مَا يَقُوْلُ إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِي جب اذان دینے والے کو سنے تو کیا کہے ٦١١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۱۱ : عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سے، ابن شہاب نے عطاء بن یزیدیشی سے، عطاء الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی ہے کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا يَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ۔ تو جس طرح مؤذن کہتا ہے، کہا کرو۔ ٦١٢ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ ۶۱۲ : معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کچی سے بچی نے محمد إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي بن ابراہیم بن حارث سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا عِيْسَى بْنُ طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَوْمًا کہ عیسیٰ بن طلحہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے فَقَالَ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا ایک دن حضرت معاویہؓ سے سنا کہ وہ (اذان کے رَّسُوْلُ اللَّهِ ۔ الفاظ ) أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ تَک اس طرح کہتے جاتے تھے۔