صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 233
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۳۳ ١٠ - كتاب الأذان قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ سَمِعْتُ اور محمد بن یوسف نے کہا: میں نے خلف بن عامر سے خَلَفَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ فِي الْمَسِيحِ ناسخ اور مسیح کے متعلق کہتے تھے کہ ان دونوں وَالْمِسِيحِ مُشَدَّدٌ لَيْسَ بَيْنَهُمَا فَرْقٌ کے درمیان کوئی فرق نہیں دونوں لفظ ایک ہی ہیں۔ وَهُمَا وَاحِدٌ أَحَدُهُمَا عِيسَى عَلَيْهِ ان میں سے (یعنی مسیح) تو حضرت عیسی علیہ السلام السَّلَامُ وَالْآخَرُ الدَّجَّالُ } ہیں اور دوسرا ( یعنی مسیح ) دجال ہے۔ } اطرافه ۸۳۳، ۲۳۹۷، ٦٣٦٨، 6375، 6376، 1377، ٧١٢٩۔ ۸۳۳: وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ۸۳۳ اور زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنہا کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يَسْتَعِيذُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ سے سنا آپ نماز میں فتنہ دجال سے پناہ مانگتے تھے۔ اطرافه ۸۳۲، ۲۳۹۷، ٦٣٦٨، 6375، 6376، 1377، ٧١٢٩۔ ٨٣٤: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ :۸۳۴: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابوحبیب عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو ہے، یزید نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے عبداللہ بن عمرو عَنْ أَبِي أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ الله أَنَّهُ قَالَ سے، عبداللہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضي عنه سے لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: آپ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُوْ بِهِ فِي صَلَاتِي قَالَ مُجھے دعا سکھائیں جو میں نماز میں کیا کروں۔ آپ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو۔ اے اللہ ! میں نے اپنی جان كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ سواپنی جناب سے فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِّنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي میری مغفرت فرما اور مجھے رحمت سے نواز ۔ یقینا تو ہی إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔ غفور و رحیم ہے۔ اطرافه: ٦٣٢٦، ٧٣٨٨۔ یہ حصہ عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۶ صفحہ ۱۱۶)