صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 227
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۷ ١٠ - كتاب الأذان رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْأُخْرَى وَقَعَدَ رکعتیں پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور عَلَى مَقْعَدَتِهِ ۔ دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت پڑھنے کے بعد بیٹھتے تو بایاں پاؤں آگے کرتے اور دوسرے کو کھڑا رکھتے اور سرین کے بل بیٹھتے ۔ وَسَمِعَ اللَّيْثُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيْبِ اور یہ حدیث لیث نے یزید بن ابی حبیب سے سنی۔ اور وَيَزِيدُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَلْحَلَةَ وَابْنُ یزید نے محمد بن حلحلہ سے اور محمد بن حلحلہ نے ابن عطاء حَلْحَلَةَ مِنَ ابْنِ عَطَاءٍ قَالَ أَبُو صَالِح سے اور ابو صالح نے لیٹ سے یہ الفاظ اقا یہ الفاظ نقل کئے ہیں: محل عَنِ اللَّيْثِ كُلُّ فَقَارٍ وَقَالَ ابْنُ فَقَار یعنی ریڑھ کی ہڈی (اپنی جگہ پر آ جاتی ہے ) اور این الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ قَالَ مبارک نے کی بن ایوب سے یوں نقل کیا ہے: یزید بن حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيْبٍ أَنَّ مُحَمَّدَ ابی حبیب نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن عمرو ( بن حلحلہ ) ابْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ كُلُّ فَقَارٍ ۔ نے ان سے یہ الفاظ نقل کئے : كُلُّ فَقَارٍ ۔ : اللہ تشريح : سُنَّةُ الْجُلُوسِ فِي التَشَهدِ امام بخار رحمہ ال علی کی نظر ایک اتلاف کا حل ہے جو نماز میں مرد اور عورت کے بیٹھنے کے طریق سے متعلق ہے۔ ان کے نزدیک مرد اور عورت کے بیٹھنے میں کوئی فرق نہیں ۔ جیسا کہ امام مالک کی رائے ہے۔ وہ خود دونوں جلسوں میں ایک ہی طریق سے بیٹھا کرتے تھے۔ یعنی سرین کے بل بائیں پاؤں کا سہارا لیتے ہوئے اور دایاں پاؤں موڑ کر اسے کھڑا رکھتے۔ مگر امام ابو حنیفہ اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک ٹرین کے بل بیٹھنا درست نہیں بلکہ بائیں پاؤں پر بیٹھنا چاہیے ۔ امام شافعی کے نزدیک پہلے جلسے میں اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک دوسرے جلسے میں امام مالک کے طریق پر بیٹھنا چاہیے ۔ (بداية المجتهد) بیٹھنے سے متعلق صحیح مذہب وہی ہے جس کا اظہار امام بخاری نے کیا ہے اور وہ یہ کہ نمازی کو اس مسئلہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ملحوظ رکھنی چاہیے ۔ سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو ( روایت نمبر ۸۲۷) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جلسہ تشہد میں اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دائیں پاؤں کو موڑ کر کھڑا رکھتے اور دوسرے میں سرین کے بل بیٹھتے تا آسانی سے بیٹھ کر دیر تک دعا کی جاسکے ( روایت نمبر (۸۲۸) اور آپ دونوں طریق سے بیٹھتے اور اس مسئلہ میں جمع اور تخییر کا اور تخییر کا مذہب ہی صحیح ہے۔ یعنی اختیاری بات ہے۔ ہے۔ دونوں طرح بیٹھا جا سکتا ہے۔ كَانَتْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ تَجْلِسُ فِي صَلَاتِهَا جِلْسَةَ الرَّجُلِ : ام درداء جن کا عنوان باب میں حوالہ دیا گیا ہے؛ وہ تابعیہ تھیں، نہ کہ صحابیہ۔ اس کنیت کی دو عورتیں ہیں ۔ ایک ام الدرداء الکبری ہیں جو صحابیہ تھیں اور وله دوسری ام الدرداء الصغری ہیں جو تا بیعہ تھیں جن سے ملکول نے روایت کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۹۵)