صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 225
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۵ ١٠ - كتاب الأذان تشریح : يُكَبِّرُ وَهُوَ يَنْهَضُ : اكر علماءکا یہ مذہب ہے کہ رکوع ) ز علماء کا یہ مذہب ہے کہ رکوع اور سجود کے وقت جھکنے یا اُٹھنے سے قبل اللہ اکبر کہا جائے۔ مگر امام مالک نے اس بارے میں یہ اختلاف کیا ہے کہ تشہد سے اٹھنے پر اللہ اکبر اس وقت کہے جب وہ کھڑا ہو رہا ہو۔ یعنی دورانِ قیام میں اور ایک روایت کے مطابق امام مالک کا یہ مذہب بھی مروی ہے کہ سیدھا کھڑا ہونے یا بیٹھنے پر اللہ اکبر کہے۔ سوائے شروع کی تکبیر کے جو کھڑا ہونے کے بعد کہی۔ جو کھڑا ہونے کے بعد کہی جاتی ہے۔ غرض یہ اختلاف مدنظر رکھ کر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۹۳) كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يُكَبِّرُ فِي نَهْضَتِهِ : ابن زبیر کا حوالہ ابن ابی شیبہ نے بسند صحیح نقل کیا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلوات با ب من كان يتم التكبير ولا ينقصه في كل رفع و خفض روایت نمبر ۲۴۸۹) باب ١٤٥ : سُنَّةُ الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُدِ تشہد میں بیٹھنے کا طریق وَكَانَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ تَجْلِسُ فِي اورام درداء نماز میں مرد کی طرح ( دوزانو ہوکر ) بیٹھتی صَلَاتِهَا جِلْسَةَ الرَّجُلِ وَكَانَتْ فَقِيْهَةً۔ تھیں اور وہ عالمہ فقہ تھیں۔ ۸۲۷ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۸۲۷ : عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ مالک ہے، مالک نے عبدالرحمن بن قاسم سے، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ عبد الرحمن نے عبداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ كَانَ يَرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ انہوں نے (اپنے بیٹے ) سے ذکر کیا کہ وہ (اپنے عَنْهُمَا يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا جَلَسَ باپ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کو دیکھتے فَفَعَلْتُهُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيْثُ السِّنِّ تھے کہ نماز میں جب وہ بیٹھتے تو چار زانو ہوکر بیٹھتے۔ فَنَهَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ إِنَّمَا چنانچہ میں بھی اسی طرح بیٹھا۔ ان دنوں میں کم سن سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے مجھے روکا اور کہا: نماز وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى فَقُلْتُ إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ میں بیٹھنے کا طریق تو یہی ہے کہ تو اپنا دایاں پاؤں کھڑا فَقَالَ إِنَّ رِجْلَيَّ لَا تَحْمِلَانِي۔ کرے اور بائیں کو موڑ دے۔ میں نے کہا: آپ بھی تو اسی طرح بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے۔