صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 220 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 220

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۰ ١٠ - كتاب الأذان ۸۲۱: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۸۲۱ : سليمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِت حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، عَنْ أَن الله قَالَ إِنِّي لَا آلُو أَنْ ثابت نے حضرت انس بن مالک) ﷺ سے أُصَلِّي بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: میں تو پوری کوشش کرتا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا قَالَ ثَابِتٌ كَانَ أَنَسٌ ہوں کہ تمہیں اسی طرح نماز پڑھاؤں جس طرح میں يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ كَانَ إِذَا نے نبی ﷺ کو ہمیں نماز پڑھاتے دیکھا تھا۔ ثابت الله رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُول کہتے تھے کہ حضرت انس بن مالک) ایک ایسی بات کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا۔ جب الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو وہ اتنی دیر کھڑے رہتے کہ يَقُوْلَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ۔ اطرافه: ۸۰۰ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں۔ اسی طرح دو سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھتے کہ کہنے والا کہتا کہ بھول گئے ہیں ۔ تشریح : الْمُكْتُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ : باب دکوری پہلی لی پہلی روایت میں كَانَ يَقْعُدُ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ کے جو الفاظ ہیں یہ راوی کا شک ہے اور اس سے مراد جلسہ استراحت ہے جو دو سجدوں کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ شک روایت نمبر ۸۲۰، ۸۲۱ سے دور کیا گیا ہے۔ ایک میں نبی ﷺ کی سنت اور دوسری میں صحابی کے عمل درآمد کا ذکر ہے۔ بعض لوگ اس جلسہ کو ضروری نہیں سمجھتے ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ان کارڈ کر رہے ہیں۔ اس مضمون کی ایک روایت پہلے بھی گزر چکی ہے۔ وہاں یہ الفاظ ہیں : مَا خَلَا الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ قَرِيبًا مِّنَ السَّوَاءِ (دیکھئے باب ۲۱ ا روایت نمبر ۷۹۲) یعنی آپ کا سجود اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور رکوع کے بعد قیام یہ تقریباً برابر ہوتے تھے۔ سوائے قیام اور قعود کے۔ اس باب کے عنوان سے واضح ہوتا ہے کہ ان وقفوں سے یہ غرض تھی کہ اطمینان کی حالت برقرار رہے اور دعا کی جائے ۔ جو لوگ بغیر وقفہ استراحت سجدہ پر سجدہ کرتے چلے جاتے ہیں وہ یقیناً اس حالت اطمینان سے بے بہرہ رہتے ہیں جو نماز کی صحت کے لئے ضروری شرط ہے اور اس دعا سے جو آنحضرت ﷺ ان وقفوں میں کیا کرتے تھے۔