صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 213
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱۳ ١٠ - كتاب الأذان باب ١٣٤ : السُّجُودُ عَلَى الْأَنْفِ ناک پر سجدہ کرنا ۸۱۲: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ قَالَ ۸۱۲ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُس نے کہا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ بن طاؤس سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، ان کے عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ کی ۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے أَعْظُم عَلَى الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَی حکم ہوا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں۔ أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ پیشانی پر اور ہاتھ سے اشارہ کیا اپنے ناک پر اور الْقَدَمَيْنِ وَلَا نَكْفِتَ الثَّيَابَ وَالشَّعَرَ۔ دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر اور نہ اطرافه: ۸۰۹، 81۰، 815، 816 ہم کپڑے میں نہ بال ۔ تشريح : السُّجُودُ عَلَى الانْفِ : باب مذکور یہ تان - بتانے کے لئے قائم کیا گیا ہے کہ پیشانی اور ناک آپس میں متصل ہونے کی وجہ سے ایک ہی ہڈی شمار کی گئی ہے۔ چنانچہ آپ ۔ انچہ آپ نے پیشانی کا نام لے کر ہاتھ سے ناک کی طرف بھی اشارہ فرمایا۔ اور پیشانی پر سجدہ تب ہی اچھی طرح کیا جا سکتا ہے جب ناک زمین سے لگے۔ بعض نے ناک کو سجدہ میں شامل رکھنا ضروری نہیں سمجھا۔ امام بخاری کی رائے اس کے خلاف ہے۔ جیسا کہ انہوں نے اگلا باب اپنی یہ رائے واضح کرنے کے لئے باندھا ہے۔ یعنی سجدہ میں اگر ناک کو پیشانی کے ساتھ شامل رکھنا ضروری نہیں تو پھر عند الضرورت جائز ہوگا کہ اس کو خاک آلود نہ کیا جائے۔ مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شدید ضرورت پیش آنے کے باوجود بھی ناک پر سجدہ کیا۔ یعنی کیچڑ اور پانی سے اس کو نہیں بچایا۔ لوگ اپنی ناک کی بہت عزت کرتے ہیں اور اس کی لاج رکھنے کے لئے احکام الہی کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے ۔ کہتے ہیں ناک نہ کئے۔ غرض سجدہ کی اصل حقیقت تب ہی جا کر پورے طور پر متمثل ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساری عزتیں قربان کر دی جائیں۔ یہی نکتہ مد نظر رکھتے ہوئے امام بخاری نے تکمیل سجدہ کی بحث باب ۱۳۵ پر ختم کی ہے اور سجدہ میں ناک کو پیشانی کے ساتھ بطور وجوب شامل رکھا ہے۔ فَجَزَاهُ اللَّهُ عَنَّا أَحْسَنَ الْجَزَاءِ وَشَكَرَ سَعْيَهُ