صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 212
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱۲ ١٠ - كتاب الأذان الْخَطْمِي حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ نے عبداللہ بن یزید عظمی سے روایت کی کہ ( انہوں وَهُوَ غَيْرُ كَذُوْبِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي نے کہا : حضرت براء بن عازب نے ہم سے بیان خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَالَ کیا اور وہ غلط نہ کہتے تھے۔کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ سَمعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔جب آپ ظَهْرَهُ حَتَّى : يَضَعَ النَّبِيُّ۔النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو ہم میں سے کوئی اپنی پیٹھ نہ جھکاتا، جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جَبْهَتَهُ عَلَى الْأَرْضِ۔اطرافه: ٦٩٠ ٧٤٧۔تشریح زمین پر اپنی پیشانی نہ رکھ دیتے۔السُّجُودُ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُم: آداب عبادت کے اظہار میں ہر مذہب وملت نے کوئی نہ کوئی طریقہ مقرر کر رکھا ہے۔مگر اسلام نے جو طریقہ جاری کیا ہے، وہ ایک جامع طریقہ ہے۔اس میں تعظیم کی تمام شائستہ ہیئتیں شامل ہیں۔ہاتھ باندھ کر ادب سے کھڑا ہونا، جھکنا، سجدہ کرنا، دوزانو ہوکر بیٹھنا۔سجدہ کی مذکورہ بالا صورت سب سے بہتر ہے۔کیا بلحاظ جسمانی ہیئت اور کیا بلحاظ عبودیت کا انتہائی درجہ نمایاں ہونے کے انسان میں خشوع خضوع کی کیفیات اس وضعیت سے بالطبع پیدا ہوتی ہیں۔لَا نَكُتُ ثَوْبًا وَّلَا شَعَرًا : کپڑے اور بال سمیٹنے سے اس لئے منع فرمایا ہے کہ توجہ بنتی اور اصل مقصود فوت ہوتا ہے۔جو شخص اپنے کپڑوں یا بالوں کے خراب ہونے کی فکر میں ہوگا اس میں توجہ الی اللہ اور عاجزی وزاری کہاں پیدا ہوگی ؟ سجدہ کی حالت تو خودی ملیا میٹ کرتی ہے۔خودی اور سجدہ ضدین ہیں۔بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ پیشانی کا زمین سے چھونا ہی واجب ہے، دوسرے اعضاء کا نہیں۔یعنی ان کی شمولیت بطور وجوب کے نہیں، بلکہ علی سبیل استعانت ہے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے روایت نمبر ۸۱۰،۸۰۹ پیش کر کے مذکورہ بالا اعضاء کی شمولیت کے وجوب کی طرف اشارہ کیا ہے۔جیسا کہ الفاظ اُمِرُنَا اَنْ نَّسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُم اس وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔ورنہ پھر میز کرسی پر بیٹھ کر سجدہ کرنا بھی جائز سمجھا جائے گا۔روایت نمبر ۸۱۱ میں اختصار ہے اور پہلی روایت میں تفصیل اور یہ روایتیں ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۳۸۴) یہ سوال کہ ان اعضاء کے بل سجدہ کرنے کا حکم کہاں ہے؟ اس کے جواب میں بعض علماء نے یہ آیت پیش کی ہے: وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا - ( السجن (۱۹) { اور یقیناً مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں پس اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔} مؤلف لسان العرب نے مساجد کے معنوں میں جسم کے وہ اعضاء بھی شامل کئے ہیں جن پر سجدہ کیا جاتا ہے۔(لسان العرب - زیر لفظ سجد)