صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 202
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۲ ١٠ - كتاب الأذان قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُوْلُوا رَبَّنَا اقتدا کی جائے۔ پس جب وہ تکبیر کہے۔ تو تم بھی تکبیر وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ کہے: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ تو تم کہو رَبَّنَا وَلَكَ الحَمدُ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔ قَالَ سُفْيَانُ كَذَا جَاءَ بِهِ مَعْمَرٌ قُلْتُ سفیان نے (علی بن مدینی سے) پوچھا: کیا نَعَمْ قَالَ لَقَدْ حَفِظَ كَذَا قَالَ الزُّهْرِيُّ معمر نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے؟ میں نے وَلَكَ الْحَمْدُ حَفِظْتُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ کہا: ہاں ۔ سفیان نے کہا: معمر نے واقعی اسی طرح یاد فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الزُّهْرِيِّ قَالَ ابْنُ رکھا۔ زہری نے وَلَكَ الْحَمْد ہی کہا۔(سفیان جُرَيْجٍ وَأَنَا عِنْدَهُ فَجُحِشَ سَاقُهُ نے یہ بھی کہا مجھے یاد ہے کہ زہری نے یوں کہا: من شِقِّهِ الْأَيْمَنِ۔ جب ہم زہری کے پاس سے نکلے تو الْأَيْمَنُ۔ ابن جریج نے کہا: میں ان کے پاس موجود تھا اور انہوں نے فَجُحِشَ سَاقُهُ الأَيْمَنُ کہا تھا۔ إطرافه ۳۷۸، ۶۸۹، ۷۳۲ ۷۳۳، ۱۱۱۴، ۱۹۱۱ ، ۲٤٦۹ ، ٥۲۰۱، ٥٢٨٩، ٦٦٨٤ تشريح : يَهْوِى بِالتَّكْبِيرِ حِيْنَ يَسْجُدُ : اس باب کا اصل مدعا یہ مدعا یہ ہے کہ سجدہ میں جانے کے وقت اللہ اکبر کہے۔ جو روایت نمبر ۸۰۳ سے واضح ہے اور روایت نمبر ۸۰۴ کے لانے سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ اکبر کہنے کی کیفیت حضرت ابو ہریرہ کی حلفی شہادت سے ظاہر ہے۔ پس اس میں آنحضرت ﷺ کی اقتداء کرنی ضروری ہے۔ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَضَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ : باب مذکورہ میں حضرت ابن عمر کا حوالہ ایک اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک بہتر یہ ہے کہ انسان سجدے میں جاتے وقت پہلے گھٹنے زمین پر ٹیکے اور پھر ہاتھ رکھے ۔ مگر امام مالک کی رائے اس کے برعکس ہے۔ یہ ایک جزئی اختلاف ہے۔ خود امام مالک اور امام احمد بن حنبل بھی اس کو ایک اختیاری بات سمجھے ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ۳۷۶) امام بخاری نے بھی اس مسئلہ میں خاموشی اختیار کی ہے۔