صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 203
صحيح جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبَرُوا : یہ بحث اٹھانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ اس میں بھی بعض لوگوں نے اختلاف کیا ہے۔ان کے نزدیک جب تک سجدہ سے سر اٹھا کر نہ بیٹھ جائے یا بالکل سجدہ میں نہ جھک جائے اللہ اکبر نہ کہے۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۳۷۷) روایت نمبر ۸۰۵ کے آخر میں ایک لفظی بحث یہ امر واضح کرنے کے لئے اٹھائی گئی ہے کہ آیا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد ہے جیسا کہ لیث وغیر ہ نے زہری سے روایت کی ہے (نمبر ۷۳۳) یا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمد ہے جیسا کہ سفیان نے زہری سے روایت کی۔( نمبر ۸۰۵) اس امر میں لیٹ کی نسبت سفیان کا حافظہ زیادہ قابلِ اعتبار ہے یعنی وَلَكَ الْحَمْدُ۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۷۷) بَاب ۱۲۹ : فَضْلُ السُّجُوْدِ سجدے کی فضیلت ٨٠٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۸۰۶ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا ، کہا : شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ہمیں بتایا۔زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: أَخْبَرَنِي سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَطَاءُ بْنُ سعید بن مسیب اور عطاء بن یزیدلیٹی نے مجھے خبر دی کہ يَزِيدَ اللَّيْنِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ حضرت ابو ہریرہ نے انہیں بتایا۔لوگوں نے پوچھا: یا النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُوْلَ اللهِ هَلْ نَرَى رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ هَلْ تُمَارُوْنَ فِی گے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم چودھویں کی رات چاند میں شک کر سکتے ہو جبکہ اس کے سامنے بادل نہ ہو؟ انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ۔آپ نے فرمایا: کیا تم سورج قَالُوْا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَهَلْ میں شک کرتے ہو جبکہ اس کے سامنے بادل نہ ہو؟ الْقَمَر لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُوْنَهُ سَحَابٌ تُمَارُوْنَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوْا لَا قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ انہوں نے کہا : نہیں۔آپ نے فرمایا: (لاریب ) تم بھی اس (یعنی اللہ تعالیٰ) کو اسی طرح دیکھو گے۔لوگ قیامت کے دن اکٹھے کئے جائیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْ کہے گا: جو شخص جس چیز کو پوجتا تھا وہ اس کے پیچھے كَذَلِكَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ه فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ وَمِنْهُمْ مَنْ ہوئے۔پس ان میں سے کوئی سورج کے پیچھے ہو جائے