صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 190
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۹۰ ۱۰ - كتاب الأذان حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي اطمینان ہو جائے۔ پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں تمہیں صَلَاتِكَ كُلِّهَا ۔ اطرافه: ٧٥٧، ٦٢٥١، ٦٢٥٢، ٦٦٦٧ اطمینان ہو جائے ۔ پھر اسی طرح ساری نماز میں کرو۔ تشريح أمر النبي النَّبِيِّ اللَّهِ الَّذِي لَا يُتِمَّ رُكُوعَهُ بِالْإِعَادَةِ: باب ۱۱۶۰۱۱۵ کا مضمون ضروری تفصیل کے بعد یہاں مکمل کیا گیا ہے۔ اگر رکوع و سجود اپنی تا اپنی تین شرطوں کے ساتھ نہ کئے جائیں تو نماز نہیں ہوتی ۔ اس میں ان لوگوں کے لئے سبق ہے۔ جن کی نمازیں سوائے اٹھنے بیٹھنے کے اور کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ بہت سے ہیں کہ ابھی رکوع میں پوری طرح جھک نہیں پاتے کہ کھڑا ہونا چاہتے ہیں اور کھڑے نہیں ہو پاتے کہ سجدہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہی حال ان کی ساری نماز کا ہوتا ہے۔ تکبیر بھی تکمیل رکوع کا حصہ ہے۔ تکبیر کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر خوبی میں سب سے بالا ہے۔ بَاب ۱۲۳ : الدُّعَاءُ فِي الرُّكُوعِ رکوع میں دعا کرنا ٧٩٤ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ ۷۹۴ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا : منصور حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ نے ابواسی سے ، ابوا ابوالضحیٰ سے، ابواضحی نے مسروق سے، مسروق رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ کہتی تھیں:نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع وسجود میں وَسُجُودِهِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا یہ دعا کیا کرتے تھے: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِی پاک ذات ہے تیری وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي۔ اے اللہ جو ہمارا رب ہے اور تو اپنی خوبیوں کے ساتھ ہے۔ اے اللہ تو میری مغفرت فرما۔ اطرافه: ۸۱۷، ٤۲۹۳ ، 4967، 4968۔ و تشريح : الدُّعَاءُ فِي الركوع : ا باب میں ان فقہاء کار ہے جوایک روایت کی بناپر رو میں دعا ایک رکوع دعا جائز نہیں سمجھتے۔ جیسا کہ امام مالک سے یہ روایت صحیح مسلم میں ان الفاظ میں منقول ہے: فَأَما الـ سے الركوع