صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 183
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۸۳۳ ١٠ - كتاب الأذان ٧٨٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۷۸۵ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ ابن شہاب نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت يُصَلِّي فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ وہ (لوگوں کو ) نماز فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً پڑھایا کرتے تھے۔ تو جب سر جھکاتے اور اٹھاتے تو بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اللہ اکبر کہتے اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: تمہاری ( نماز کی ) نسبت میری نماز رسول اللہ صلی اللہ اطرافه: ۷۸۹، ۷۹۵، ۸۰۳ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ ملتی جلتی ہے۔ ۔ جس تشريح : إِثْمَامُ التَّكْبِيرِ فِي الرُّكُوعِ : باب ۱۵، ۱۷ باب ۱۱۵، ۱۱۶، ۱۷ اتکبیروں سے متعلق قائم کئے گئے ہیں۔ کی وجہ یہ ہے کہ فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ کون سی تکبیر واجب ہے اور کون سی غیر واجب ۔ بعض نے کہا ہے کہ نماز کی تمام تکبیریں ا تمام تکبیریں واجب ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ کوئی تکبیر واجب نہیں ۔ یہ مذہب شاذ ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ صرف تکبیر تحریمہ ہی واجب ہے۔ یہ مذہب جمہور کا ہے ۔ انہوں نے روایت نمبر ۷ ۷۵ سے اس کا استدلال کیا ہے ۔ كَبِرُ ثُمَّ اقْرَءُ یہ حکم صرف تکبیر تحریمہ کی نسبت ہے۔ غرض اس اختلاف کی وجہ سے مشار الیہ باب قائم کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پیش کیا ہے ۔ ( روایت نمبر ۷۸۵،۷۸۴ ) باب ١١٦ : إِثْمَامُ التَّكْبِيرِ فِي السُّجُودِ اللہ اکبر کو سجدہ میں پورا کرنا ٧٨٦: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ ۷۸۶ : ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد ( بن حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ زید ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے غیلان بن جریر سے، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ غیلان نے مطرف بن عبداللہ سے روایت کی کہ میں عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ اللهُ أَنَا وَعِمْرَانُ نے اور حضرت عمران بن حصین نے حضرت علی بن ابی بْنُ حُصَيْنِ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب آپ رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب سجدہ سے سر