صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 184
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۸۴ ١٠ - كتاب الأذان الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَخَذَ اٹھاتے۔تب بھی اللہ اکبر کہتے اور جب دور کعتیں پڑھ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ قَدْ کر اٹھتے تو بھی اللہ اکبر کہتے۔جب آپ نماز پڑھ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّد ﷺ أَوْ قَالَ چکے تو حضرت عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: انہوں نے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز مجھے یاد لَقَدْ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ۔اطرافه: ٧٨٤، ٨٢٦۔دلا دی ہے۔یا کہا: لا ریب انہوں نے تو ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھائی ہے۔۷۸۷: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ ۷۸: عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا، کہا بنشیم حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشَرِ عَنْ عِكْرِمَةَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو بشر سے، ابو بشر نے عکرمہ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمَقَامِ يُكَبِّرُ فِي سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: میں نے ایک شخص کو كُل حَفْضِ وَرَفْعِ وَإِذَا قَامَ وَإِذَا وَضَعَ مَقامِ (ابراہیم) کے نزدیک دیکھا۔وہ ہر دفعہ سر فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاس طعنه قَالَ أَوَلَيْسَ جھکانے اور اٹھانے پر اللہ اکبر کہتا اور اس وقت بھی تِلْكَ صَلَاةَ النَّبِيِّ ﷺ لَا أُمَّ لَكَ۔جب وہ کھڑا ہوتا اور جب سجدہ میں جاتا۔میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بتایا۔تو انہوں نے کہا: اطرافه: ۷۸۸ بے مادر! کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہیں؟ باب ۱۱۷ : التَّكْبِيْرُ إِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ تکبیر کہنا جب سجدہ سے کھڑا ہو :۷۸۸ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۷۸۸ موسى بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا ، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ ہمام نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے عکرمہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: میں نے مکہ میں قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخِ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ایک بزرگ کے پیچھے نماز پڑھی۔انہوں نے بائیں ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَقُلْتُ لِابْنِ تکبیریں کہیں۔میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ یہ