صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 181
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۸۱ ١٠ - كتاب الأذان تشريح : جَهْرُ الْمَأْمُومِ بِالتَّأمِينِ : مقتدی کے بآواز آمین کہنے سے تعلق بھی اختلاف کیا گیا ہے۔ امام بخاری نے باب ۱۱۳ میں جَهْرُ الْمَأْمُومِ بِالتَّأْمِينِ کا عنوان قائم کر کے اس اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ محولہ بالا حدیث نمبر ۷۸۲ میں مقتدی کے بآواز آمین کہنے کا ذکر نہیں ۔ امام موصوف نے روایت نمبر ۷۸۰ سے ضمنا استدلال کیا ہے : إِذَا اَمَّنَ الْإِمَامُ فَآمِنُوا ۔ یعنی جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ جب تک امام با واز آمین نہیں کہے گا مقتدیوں کو علم نہیں ہو سکتا ۔ چونکہ مقتدیوں پر امام کی اتباع ضروری ہے، اس لئے اس کو بھی آمین بالجبر کہنا ہوگا۔ غالبا اس استدلال پر مذکورہ بالا عنوان قائم کیا گیا ہے ۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۴۵) جس کی تائید دوسرے حوالوں سے بھی کی گئی ہے۔ محمد بن عمرو اور نعیم کے حوالوں کی تفصیل فتح الباری جزء ثانی صفحہ نمبر ۳۴۵ تا ۳۴۶ میں دیکھئے۔ دل میں یا با واز آمین کہنے کی بحث جو بعض لوگوں کی طرف سے اٹھائی گئی ہے فضول ہے۔ کوئی آمین بالجہر پر زور دیتا ہے اور کوئی آمین آمین با بالخفاء اء پر پر ۔ ۔ آ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سے دونوں دونوں باتیں باتیں ؟ ثابت ہیں ۔ آپ نے دل میں بھی آمین آج کہی اور بآواز بھی ۔ موقع ومحل کی مناسبت اور معنویات کے طبعی تقاضا سے آپ نے ایسا کیا۔ دعا میں انسان بعض وقت بے قرار اور جزع فزع میں بے اختیار ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کی آواز بلند ہو جاتی ہے اور بعض وقت سکون و طماعیت کا پیکر بن جاتا ہے۔ زبان تک نہیں ہلتی۔ ایک پر کیف عالم میں وہ مست والست کھڑا ہوتا ہے۔ رواں رواں اس کا دعا ہوتا ہے۔ اس حالت میں آمین بلند آواز سے کہنا طبعی تقاضا کے خلاف ہوگا۔ پہلے اپنے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی معنویات پیدا کرو اور پھر چاہے آمین بالجہر کہویا بالخفاء بالجهر كهويا بالخفاء - کامل مسلمان وہی ہے جو اپنے اندر اپنے امام و مقتداء کی مختلف نفسی کیفیات پیدا کر کے جیسا تقاضائے حالت ہو آپ کے اسوۂ حسنہ کی اتباع کرے۔ جھوٹی نقل نہ ہونہ آمین بالجھر میں اور نہ آمین بالخفاء میں ۔ باب ١١٤ : إِذَا رَكَعَ دُوْنَ الصَّفِّ اگر صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کر دے ۷۸۳ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۷۸۳ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنِ الْأَعْلَمِ وَهُوَ زِيَادٌ کہا: ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعلم سے جو زیاد بن حسان) ہیں ۔ اعلم نے حسن سے، حسن نے عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ انْتَهَى حضرت ابوبکرہ سے روایت کی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ رکوع میں تھے تو رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع