صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 168
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۶۸ ۱۰ - كتاب الأذان الظَّنَّ بِكَ أَوْ ظَنِّي بِكَ۔ نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ آپ کے متعلق میرا یہی خیال تھا یا کہا: آپ پر میرا یہی گمان تھا۔ اطرافه: ٧٥٥، ٧٥٨ بَاب ١٠٤ : الْقِرَاءَةُ فِي الْفَجْرِ صبح کی نماز میں قرآت صلى الله وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَرَأَ النَّبِيُّ ﷺ بِالطُّور اور حضرت ام سلمہ کہتی تھیں: نبی علی نے سورہ طور پڑھی۔ ۷۷۱: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا اےے: آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ قَالَ نے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سیار بن سلامہ نے دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ ہمیں بتایا، کہا: میں اور میرے والد حضرت ابو برزہ الْأَسْلَمِي فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ اسلمی کے پاس گئے اور ہم نے ان سے نمازوں کے فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اوقات پوچھے تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ حِيْنَ تَزُولُ الشَّمْسُ ظہر سورج ڈھلنے پر پڑھا کرتے تھے اور نماز عصر ایسے وَالْعَصْرَ وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى وقت پڑھتے کہ آدمی (نماز پڑھ کر ) شہر کے آخری حصہ میں واپس چلا جاتا اور سورج ابھی روشن ہوتا اور الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيْتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ مغرب کا وقت جو انہوں نے بتایا تھا میں بھول گیا اور عشاء کے لئے ایک تہائی رات تک دیر کرنے الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ آپ میں پرواہ نہ کرتے ۔ اس سے پہلے سونا اور اس کے قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَيُصَلِّي بعد باتیں کرنا پسند نہ فرماتے اور صبح کی نماز ( ایسے الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ وقت) پڑھتے کہ آدمی ( نماز سے فارغ ہو کر اپنے جَلِيْسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ پاس بیٹھنے والوں کو پہچان لیتا اور صبح کی دونوں رکعتوں إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّيِّينَ إِلَى الْمِائَةِ۔ میں یا ایک رکعت میں ساٹھ آیتوں سے لے کر سو اطرافه: ٥٤١، ٥٤٧، 568، 599 آیات تک پڑھا کرتے تھے۔