صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 153 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 153

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۳ ١٠ - كتاب الأذان اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْاِلْتِفَاتِ فِي کی ۔ وہ کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصَّلَاةِ فَقَالَ هُوَ اخْتِلاسُ يَخْتَلِسُهُ سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ۔ اطرافه: ۳۲۹۱۔ فرمایا: یہ شیطان کی ایک جھیٹ ہے جو بندے کی نماز پر مارتا ہے اور اس میں سے کچھ لے لیتا ہے۔ ٧٥٢: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۷۵۲: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ نبی صلی صَلَّى فِي حَمِيْصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ فَقَالَ اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار سیاہ لوئی میں نماز شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى پڑھی۔ اس پر بیل بوٹے تھے۔ آپ نے فرمایا: اس أَبِي جَهْمٍ وَأَتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ۔ کے نقش و نگار نے میری توجہ ہٹا دی۔ یہ ابو جھٹ کے پاس لے جاؤ اور اس کی سادہ لوئی مجھے لا دو۔ اطرافه: ۳۷۳، ۵۸۱۷ تشریح : الالْتِفَاتُ فِي الصَّلَاةِ : اس باب کی پہلی روایت میں آپ کا ارشاد اور دوسری میں آپ کا عمل پیش کیا گیا ہے۔ يَحْتَبِسُهُ الشَّيْطَانُ : شیطان کی جھپٹ سے یہی مراد ہے کہ وہ عبادت سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے۔ انسان دو قسم کے جذبوں کی کشمکش میں ہے۔ ایک لمہ ملکیہ اور دوسر المۂ شیطانیہ۔ پہلا انسان کو نیکی کی طرف کھینچنا چاہتا ہے اور دوسرا بدی کی طرف۔ اس کشمکش کو مد نظر رکھ کر اختلاس یعنی جھپٹ مارنے کا لفظ استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ میں توجہ قائم رکھنے ۔ رکھنے کے لئے بڑی جدوجہد کی ضر جدوجہد کی ضرورت ہے اور اسی : ہے اور اسی پر خشوع خضوع وغیرہ قلبی حالتوں ۔ ر بی حالتوں کے پیدا ہونے کا : نماز دار و مدار ہے۔ اسی لئے خیالات کو منتشر کرنے والے اسباب سے روکا گیا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب الصلوۃ باب ۱۰۰ تا ۰۹ اروایت نمبر ۵۰۹ تا ۵۲۰) اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهُم وَاتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ : موطا امام مالک میں حضرت عائشہ کی روایت منقول ہے کہ حضرت ابو جہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لوئی ہدیہ ہوئی ہدیہ دی تھی جو آپ نے بجائے رڈ کرنے کے تبد یا تبدیل کرلی۔ مؤطا امام مالک ۔ كتاب النداء للصلاة ۔ باب النظر في الصلاة)