صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 152
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۲ ١٠ - كتاب الأذان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ بتایا۔وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ لوگوں کو کیا ہوا ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ طرف اٹھاتے ہیں؟ آپ نے اس کے متعلق سخت عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتَحْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ۔ارشاد فرمایا: یہاں تک فرمایا کہ انہیں اس سے باز رہنا ہوگا۔ورنہ ان کی بینائیاں اُچک لی جائیں گی۔تشریح: رَفْعُ الْبَصَرِ إِلَى السَّمَاءِ فِى الصَّلوة : لوگ غلطی سے اللہ تعالی کی جائے قرار صرف آسمان میں سمجھے بیٹھے ہیں۔اس لئے دعاؤں میں وہ اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔پس ان کی اس غلطی کا ازالہ اسلام نے بڑی وضاحت سے کیا ہے۔قرآن مجید اللہ تعالی کو بلندیوں کا بھی اسی طرح خالق ورب قرار دیتا ہے جس طرح پستیوں کا۔وہ اس زمین میں بھی جلوہ گر ہے اور آسمان میں بھی۔اس کی ذات پاک کون و مکان اور کیف بالا ہے۔سُبْحَانَ رَبِّ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُون۔۔۔۔۔وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ اله وفِي الأَرْضِ الهُ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ۔وَتَبَارَكَ الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا (الزخرف:۸۵،۸۳-۸۶) پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب، رب العرش ، اُس سے جو وہ بیان کرتے ہیں اور وہی ہے جو آسمان میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہ بہت حکمت والا ( اور ) دانگی علم رکھنے والا ہے اور ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بادشاہت ہے۔جولوگ اللہ تعالیٰ کو کسی خاص جگہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔وہ سچی معرفت سے محروم ہیں۔(تفصیل کے لئے دیکھئے کشتی نوح صفحه ۳۴ تا ۴۴ - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۲ تا ۴۲) بینائی اُچک لینے کے یہی معنی ہیں کہ حقیقی عرفان انہیں حاصل نہیں ہوگا۔لوگوں کے غلط خیال مٹانے کے لئے شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے سختی سے مسلمانوں کو نماز یا دعا میں آسمان کی طرف آنکھ اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔باب ۹۳: الْالْتِفَاتُ فِي الصَّلاةِ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا ٧٥١: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۷۵۱ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوالا حوص نے أَبُو الأَحْوَص قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ اشعث بن سلیم نے سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی نے مسروق سے ،مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت