صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 142
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۴۴۴ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ۸۷: وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى {فِي الصَّلَاةِ } (نماز میں ) داہنا ہاتھ بائیں بازو پر رکھنا ٧٤٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۷۴۰ : عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ سے، عَنْ مَّالِكٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوحازم سَعْدٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ۔ انہوں نے يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ کہا: لوگوں کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ ہر آدمی نماز میں داہنا الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ لَا ہاتھ اپنے بائیں بازو پر رکھے۔ (اور ) ابو حازم کہتے أَعْلَمُهُ إِلَّا يَنْمِي ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى تھے: میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ (یعنی سہل ) اس بات اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ يُنْمَى کوئی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ذَلِكَ وَلَمْ يَقُلْ يَنْمِي۔ اسماعیل نے کہا: انہوں نے لفظ يَنْمی نہیں کہا: بلکہ ینمى ذلك کہا۔ یعنی اسے منسوب کیا جاتا تھا۔ تشريح : وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ: ہاتھ پرہاتھ رکھ کرکھڑے ہونے کا طریقہ //// قدیم سے چلا آتا ہے۔ جو اطاعت شعاری اور فرمانبرداری پر دلالت کرتا ہے۔ ترکی اقوام میں اظہار ادب کے لئے ہاتھ باندھے جاتے ہیں اور ایرانی اقوام میں ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونا ادب کی علامت ہے۔ مغربی اقوام میں گھٹنوں کے بل بیٹھنا اور ہندؤوں وغیرہ قوموں میں جھکنا اور افریقہ کی اقوام میں سجدے میں گر جانا ادب و فرمانبرداری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شارع اسلام علیہا ہے۔ شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی عبادت میں ہر طریقہ اختیار کیا ہے۔ جس ۔ ہے۔ جس سے نفس میں خشوع و خضوع اور اطاعت و محبت کے جذبات پیدا ہوں ۔ باب نمبر ۷ ۸ و باب نمبر ۸۸ پہلو بہ پہلو رکھنے سے اسی نکتہ کی طرف توجہ ولانی مقصود ہے۔ ہاتھ باندھنے سے متعلق اختلاف کہ کہاں باندھے اور کس طرح باندھے؛ یہ اختلاف کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے امام بخاری نے اس کی طرف التفات نہیں کیا۔ الفاظ فِي الصَّلاةِ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۲۹۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔