صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 138 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 138

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۳۸ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ٨٥ : إِلَى أَيْنَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ اپنے ہاتھوں کو کہاں تک اٹھائے؟ وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ فِي أَصْحَابِهِ رَفَعَ اور ابوحميد ( ساعدی) نے اپنے ساتھیوں کے سامنے کہا: نبی الله النَّبِيُّ ﷺ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ۔ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مونڈھوں تک ہاتھ اٹھاتے تھے۔ ۷۳۸: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ ۷۳۸ : ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا : شعیب نے أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنَا ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: سالم بن سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عبداللہ بن عمر) نے ہمیں بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ الله عنہا کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ نے نماز اللهُ اکبر سے شروع کی اور جب آپ اللهُ اکبر فِي الصَّلَاةِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِيْنَ يُكَبِّرُ حَتَّی کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ دونوں مونڈھوں کے برابر کرتے اور جب آپ رکوع کے لئے لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَهُ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ الله الله اکبر کہتے تو اس طرح کرتے اور جب آپ سَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَهُ فَعَلَ مِثْلَهُ وَقَالَ رَبَّنَا وَلَكَ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے تو بھی اسی طرح کرتے اور آپ کہتے : الْحَمْدُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ حِيْنَ يَسْجُدُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ اور آپ جب سجدہ کرتے تو ایسا نہ کرتے وَلَا حِيْنَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ۔ اور نہ اس وقت کہ جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے ۔ اطرافه ٧٣٥، ٧٣٦، ٧٣٩۔ تشریح : إِلَى أَيْنَ يَرْفَعَ يَدَيْهِ : رفع یدین سے متعلق چوتھا اختلاف یہ ہے کہ ہاتھ کہاں تک اٹھائے، مونڈھوں تک یا کانوں تک ؟ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ مونڈھوں تک اٹھائے جائیں اور زیادہ تر یہی ثابت ہے۔ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه : من لی اللہ نے اس کی جس نے اس کی ستائش کی ۔ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْد : اے ہمارے رب! تیرے ہی لئے تمام خوبیاں ہیں۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں سے جس نے سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد کی وہ محمد رسول اللہ صلی ال اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جن کا دوسرا نام احمد ہے۔ یعنی سب سے بڑھ کر تعریف کرنے والا اور ان میں سے جس نبی کی سب سے زیادہ دعا ئیں معجز نما صورت میں قبول ہوتی ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ مذکورہ بالا فقرے سے ہر نمازی