صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 131 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 131

صحیح البخاري - جلد ۲ السا ١٠ - كتاب الأذان اگلے باب میں اس بات کی تشریح کر دی ہے کہ اس حجرے سے کیا مراد ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ حَصِيْرٌ يَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ - (روایت نمبر ۷۳۰) چٹائی جسے دن کے وقت بچھاتے تھے اور رات کو اس سے حجرہ بنا لیتے تھے۔ یہ اوٹ ایسی نہیں کہ جس سے یہ استدلال کیا جا سکے کہ اگر امام اور مقتدی کے درمیان دریا یا راستہ حائل ہو یا وہ گھر میں بیٹھا ہو تو اس کی نماز جائز ہوگی ۔ امام موصوف نے اگلے باب کا عنوان صَلوةُ اللیل قائم کر کے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ ایک نفلی نماز تھی۔ یعنی تہجد ۔ نماز فریضہ کا اس پر قیاس کرنا درست نہیں ۔ اسی بات کی طرف توجہ دلانے کے لئے روایت نمبر ۳۱ ۷ لائے ہیں جس کے یہ الفاظ ہیں: فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلوةِ صَلوةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ۔ یعنی نماز فریضہ کے سوا باقی نمازیں گھروں میں پڑھو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نماز فریضہ مسجد میں پڑھنی چاہیے۔ گھروں وغیرہ مقامات میں نماز فریضہ کی ادائیگی کا نفلی نماز پر قیاس کرنا جبکہ امام اور مقتدی کے درمیان اوٹ حائل ہو درست نہیں۔ خواہ تکبیر کی آواز کیوں نہ سنائی دے۔ معذوری کے حالات تو ہمیشہ مستثنی ہوتے۔ ہوتے ہیں۔ مگر بغیر عذر کے امام اور صف سے علیحدہ نماز پڑھنا جائز نہیں۔ ھنا جائز نہیں۔ جہاں تک نماز کسی وقت یا جگہ میں باجماعت پڑھنے کے جواز یا عدم جواز کا تعلق ہے مسئلہ واضح ہے۔ علاوہ ازیں حسن بصری کے فتوی سے جماعت کی تعریف کا بھی علم ہوتا ہے۔ جماعت محض آدمیوں کے ایک جگہ اکٹھا ہونے کا نام نہیں ۔ بلکہ عقیدہ اور عمل میں یگانگت اور یک جہتی کا نام جماعت ہے۔ جماعت کا یہ تصور حدود مکان و زمان سے وسیع تر ہے۔ بَاب ۸۱ : صَلَاةُ اللَّيْلِ رات کی نماز ۷۳۰: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۷۳۰ ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ قَالَ ابن ابی فدیک نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِي عَنْ کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مقبری أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ سے مقبری نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے سے روایت کی کہ نبی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہ رضی الله عنها صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی ، جسے آپ دن کو وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ حَصِيْرٌ يَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ بچھایا کرتے تھے اور رات کو اس کا حجرہ بنا لیتے۔ کچھ وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ فَتَابَ إِلَيْهِ نَاسٌ لوگ آپ کے پاس اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہو گئے اور فَصَلَّوْا وَرَاءَهُ۔ انہوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ اطرافه: ۷۲۹، ۹۲۴ ، ۱۱۲۹، ۲۰۱۱، ٢٠١٢، ٥٨٦١۔