صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 127 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 127

صحيح البخاري - جلد ۲ ۱۲۷ ١٠ - كتاب الأذان باب ۷۷ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ عَنْ يَسَارِ الْإِمَامِ وَحَوَّلَهُ الْإِمَامُ خَلْفَهُ إِلَى يَمِينِهِ تَمَّتْ صَلَاتُهُ اگر کوئی شخص امام کے بائیں کھڑا ہو اور امام اس کو اپنے پیچھے سے پھیر کر اپنے دائیں کر دے تو اس کی نماز مکمل ہوگئی (یعنی اس کی نماز میں کمی نہ ہوگی ) ٧٢٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ :۷۲۶: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا ، کہا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ داؤد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عمرو نے کریب سے جو کہ حضرت ابن عباس کے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ آزاد کردہ غلام تھے۔ کریب نے حضرت ابن عباس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي فَجَعَلَنِي میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى وَرَقَدَ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے مرا سر پکڑا اور مجھے اپنی فَقَامَ وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ۔ دائیں طرف کر لیا اور آپ نے نماز پڑھی اور سو گئے ۔ اس کے بعد مؤذن آپ کے پاس آیا۔ آپ اٹھے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ اطرافه: ۱۱۷، ۱۳۸، ۱۸۳ ، ۹۷، ۶۹۸، ۶۹۹، ۷۲۸، ۸۵۹، ۹۹۲، ۱۱۳۸، ١، ٤٥٦٩ ، ٤٥٧٠، ٤٥٧١ ، ٤٥٧٢ ، ٥٩١٩، ٦٢١٥، ٦٣١٦، ٧٤٥٢۱۹۸ تشريح : إِذَا قَامَ الرَّجُلُ عَنْ يَسَارِ الْإِمَامِ وَحَوَّ لَهُ الْإِمَامُ : باب نمبر ۵۸ کاعنوان الفاظ لَمُ تَفْسُدُ صَلوتُهُمَا ہے۔ یعنی ان دونوں امام و مقتدی کی نماز فاسد نہیں ہوئی اور یہاں یہ عنوان ہے: تَمَّتْ صَلوتُه یعنی مقتدی کی نماز پوری ہوگئی۔ اس خفیف سے تصرف کے ساتھ مذکورہ بالا روایت دہرانے کی کیا ضرورت تھی۔ : ں۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پہلے عنوان کا یہ مضم ہلے عنوان کا یہ مضمون ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹا ۔ ہٹانے سے ان دونوں کی نماز میں کوئی رخنہ واقع نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس میں نماز کے ایک اہم رکن کی درستی مقصود ہے۔ باجماعت نماز تب درست ہوتی ہے جب امام اور مقتدی اپنے اپنے مقام پر کھڑے ہوں ۔ جونہی وہ اس مقررہ مقام سے ادھر ادھر ہوں گے ان کی نماز ناقص ہوگی۔ پس ایسا عمل جوان کی نماز کی صحت اور درستی کا موجب ہو نماز کو فاسد بنانے والا نہیں کہلائے گا اور باب ۷۴ کا یہ مضمون