صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 124
صحیح البخاری جلد ۲ ۱۲۴ ١٠ - كتاب الأذان صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوسًا أَجْمَعُوْنَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی وَأَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ إِقَامَةَ سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی سب الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ۔ بیٹھ کر نماز پڑھو اور نماز میں صف سیدھی رکھو ۔ کیونکہ صف کی درستی نماز کی خوبصورتی ہے۔ اطرافه: ٧٣٤۔ ۷۲۳: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ :۷۲۳: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا ، کہا : شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَرُّوا حضرت انس سے، حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ وَسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اپنی صفیں سیدھی رکھو۔ کیونکہ صفوں کی درستی بھی اقامت صلوة إِقَامَةِ الصَّلَاةِ۔ کے حکم میں شامل ہے۔ اطرافه ٤١٩، ۷۱۸، ۷۱۹، ٧٢۵۔ ٧٤٢، ٦٦٤٤۔ تشريح : إِقَامَةُ الصَّفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلوة : اسلامی نماز کا اک ایک جزو اور اس کی ہر حرکت و سکون ایک ایسا ضروری رکن ہے جو کسی نہ کسی حکیمانہ مقصد کو اپنے ساتھ شامل رکھتا ہے اور شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مقصد کی طرف خود توجہ دلائی ہے۔ اقامت صلوۃ قرآن مجید کا وہ حکم ہے جو پچاس دفعہ مختلف پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے۔ اقمِ الصَّلوةَ کے یہ معنی ہیں کہ نماز سنوار کر اور صحیح طریق سے ادا کی جائے اور اس میں کسی قسم کا نقص نہ ہو۔ اس کا قیام بھی ارشاد قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقرہ: ۲۳۹) کے مطابق ہو۔ یعنی اللہ کے لئے کامل فرمانبردار بن کر کھڑے ہو جاؤ۔ اگر ہمارا یہ قیام ناقص ہوگا تو ہماری عبادت اور ہماری اطاعت ناقص ہوگی اور اگر اس قیام میں درستی مد نظر رہی تو پھر ہماری عبادت اور ہماری فرمانبرداری بھی صحیح اور درست ہوگی ۔ اسلام انسان کی جسمانی حرکات کی درستی پر اسی لئے زور دیتا ہے کہ اس کا اثر معنوی درستی پر پڑنا ضروری ہے۔ دیکھئے روایات نمبر ۷۱۸ ۸۱۴، ۸۱۵ اور تشریح کتاب الصلاۃ باب ۴۰، کتاب الاذان باب اے۔