صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 116
صحیح البخاری جلد ۲ דון ١٠ - كتاب الأذان عُمَرَ قَالَ إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ کو نماز پڑھائیں۔ میں نے حفصہ سے کہا کہ آپ يُوْسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ حضرت ابو بکر فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُوْلُ اللهِ درد مند آدمی ہیں۔ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ گے، لوگوں کو سنا نہیں سکیں گے۔ آپ حضرت عمر سے رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخَطَّانِ فِي الْأَرْضِ کہیں ۔ آپ نے فرمایا: تم تو یوسف والی عورتیں ہو۔ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب انہوں أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ نے نماز شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فَأَوْمَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اپنے آپ میں افاقہ محسوس کیا اور آپ اُٹھ کر دو وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آدمیوں کے درمیان ٹیک لگائے آہستہ آہستہ چلے۔ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارٍ أَبِي بَكْرٍ یہاں تک کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے۔ آپ کے فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ دونوں پاؤں زمین پر لکیر ڈال رہے تھے۔ جب رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حضرت ابو بکر نے آپ کی آہٹ سنی تو حضرت ابو بکر پیچھے ہٹنے لگے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَاعِدًا ، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرِ الله ۔ رضى حضرت انہیں اشارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور رت ابوبکر کے بائیں طرف بیٹھ گئے ۔ حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے اور لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کرتے۔ اطرافه: ١٩٨، ٦٦٤ ، ٦٦٥ ٦٧٩، ٦ ٧١٢،٦٨٧، ٧١٦، ۲٥٨٨، ۳۰۹۹ ۷۳۰۳ ،٣٣٨٤، ٤٤٤٢، ٤٤٤٥، ٥٧١٤ تشریح : التَمُوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ: مذکورہ بالاحوال حضرت ابو سعید خدری کی حد: حدیث کا ہے جو مسلم نے ان الفاظ میں نقل کی ہے: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأْخُرًا فَقَالَ