صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 108
صحیح البخاری جلد ۲ ۷۰۱ ١٠ - كتاب الأذان ثَلَاثَ مِرَارٍ فَلَوْلَا صَلَّيْتَ بِسَبِّحِ اسْمَ تم تو بہت ہی ابتلاء میں ڈالنے والے ہو۔ یا فرمایا: رَبِّكَ ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَاللَّيْلِ ابتلاء میں ڈالنے والے ہو۔ کیوں نہ تم نے سَبِّحِ اسْمَ إِذَا يَغْشَى فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا، وَاللَّيْلِ إِذَا وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ أَحْسِبُ هَذَا يَغْشَى پڑھی۔ کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور اور حاجت مند بھی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ (شعبہ فِي الْحَدِيثِ ۔ کہتے ہیں: ) میرا خیال ہے کہ یہ جملہ (فَإِنَّهُ يُصَلِّی وَرَاءَكَ) حدیث میں (داخل) ہے۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَتَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ ابو عبد الله (امام بخاری ) نے کہا: اور (اس حدیث مَسْرُوْقٍ وَمِسْعَرْ وَالشَّيْبَانِيُّ قَالَ کے بیان کرنے میں ) سعید بن مسروق، مسعر اور عَمْرُو وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ وَأَبُو الزُّبَيْرِ شیبانی نے اس کی (یعنی شعبہ کی ) پیروی کی ہے اور عَنْ جَابِرٍ قَرَأَ مُعَادٌ فِي الْعِشَاءِ بِالْبَقَرَةِ مرد اور عبید اللہ بن مسلم اور ابوالز بہیر نے حضرت جابر سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت معاذ نے وَتَابَعَهُ الْأَعْمَشُ عَنْ مُّحَارِبٍ ۔ اطرافه ۷۰۰، 7۰۱، 711، 6106۔ عشاء کی نماز میں ( سورہ ) بقرہ پڑھی تھی اور شعبہ کی طرح اعمش نے بھی محارب سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی ہے۔ تشریح : مَنْ شَكَا اِمَامَهُ إِذَا طَوَّلَ : سابقہ بابوں میں یہ ہدایت دی گئی ہےکہ امام مقتدیوں کو ابتلا میں نہ ڈالیں۔ اسے ان کا من حیث المجموع خیال رکھنا چاہیے اور اس باب میں مقتدیوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب انہیں اپنے امام کے خلاف شکایت پیدا ہو تو وہ خود بخود اس کا ازالہ نہ کریں۔ بلکہ امام وقت کے سامنے اسے پیش کریں۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو مختلف موقعوں پر مقامی امام کی شکایت کی گئی اور آپ نے اس کا تدارک فرمایا۔ حضرت معاذ کا واقعہ روایت نمبر ۷۰۵ میں مفصل بیان کیا گیا ہے اور اس شخص کی مجبوری کا بھی ذکر ہے کہ وہ دن بھر کے کام کاج سے تھکا ماندہ تھا۔