صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 109
صحيح البخاری جلد ۲ 1+9 بَاب ٤ ٦ : الْإِيْجَازُ فِي الصَّلَاةِ وَإِكْمَالُهَا نماز مختصر اور اسے اچھی طرح پڑھنا ١٠ - كتاب الأذان :٧٠٦ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ ۷۰۶ : ابو عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عبد العزیز نے الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ ہمیں بتایا۔وہ حضرت انس بن مالک) سے روایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز يُوْجِرُ الصَّلَاةَ وَيُكْمِلُهَا۔اطرافه ۷۰۸، ۷۰۹، ۷۱۰ تشریح: کو مختصر کرتے اور اس کو اچھی طرح پڑھتے۔الإيجازُ فِي الصَّلَاةِ وَإِكْمَالُهَا: یعنی رکوع و سجود وقومه وجلسہ اور تسی و تکبیر و غیره جمله ارکان نماز اطمینان سے ادا کرنا۔مگر قرآت کو مختصر کرنا۔جیسا کہ باب نمبر 41 میں واضح کیا جا چکا ہے۔لیکن یہ اختصار و تخفیف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص وجہ سے کیا کرتے تھے۔جیسا کہ اس کی تصریح اگلے باب میں کی گئی ہے۔بَاب ٦٥ : مَنْ أَخَفَّ الصَّلَاةَ عِنْدَ بُكَاءِ الصَّبِيِّ جس نے بچے کے رونے پر نماز ہلکی کر دی :۷۰۷: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى : ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : قَالَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا وليد (بن) مسلم) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا کہ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یحی بن ابی کثیر سے، عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيْهِ أَبِي قَتَادَةَ حي نے عبد الله بن ابی قتادہ سے، عبد اللہ نے اپنے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ باپ ابو قتادہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔إِنِّي لَأَقْوْمُ فِي الصَّلَاةِ أُرِيدُ أَنْ أُطَوّلَ آپ نے فرمایا: میں نماز میں یہ ارادہ کر کے کھڑا ہوتا فِيْهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي ہوں کہ اسے لمبا کروں گا۔اتنے میں بچے کا رونا سنتا صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ۔ہوں تو میں اپنی نماز کو مختصر کر دیتا ہوں۔میں نا پسند کرتا ہوں کہ اس کی ماں کو تکلیف میں ڈالوں۔