صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 107 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 107

صحيح البخاری جلد ۲ 1+6 ١٠ - كتاب الأذان خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي خالدے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے، قیس نے مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ حضرت ابو مسعودؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک آدمی إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْفَجْرِ مِمَّا نے کہا: یا رسول اللہ ! میں تو صبح کی نماز میں اس لئے پیچھے يُطِيْلُ بِنَا فُلَانٌ فِيْهَا فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ رہتا ہوں کہ فلاں اُسے لمبی کر کے ہم پر دو بھر کر دیتا ہے۔تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ میں نے آپ کو فِي مَوْضِعِ كَانَ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ کسی نصیحت میں بھی اس دن سے بڑھ کر غصہ میں نہیں ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِرِيْنَ دیکھا۔پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم میں سے ایسے ہیں فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ خَلْفَهُ جو لوگوں کو نفرت دلاتے ہیں۔پس جو شخص لوگوں کا امام الضَّعِيْفَ وَالْكَبَيْرَ وَذَا الْحَاجَةِ۔بنے تو چاہیے کہ وہ نماز مختصر پڑھے۔کیونکہ اس کے پیچھے کمزور ، بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔اطرافه ۹۰ ، ۷۰۲، ۶۱۱۰، ۷۱۵۹۔٧٠٥: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۷۰۵ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا، کہا : قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَارِبُ شعبہ نے ہمیں بتایا ، کہا: محارب بن دثار نے ہم سے بْنُ دِنَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بیان کیا، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ بِنَاضِحَيْنِ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ سامنے سے ایک آدمی پانی وَقَدْ جَنَحَ اللَّيْلُ فَوَافَقَ مُعَاذًا يُصَلِّي اُٹھانے والے دو اونٹ لئے آ رہا تھا اور رات ہو چکی تھی اور اس نے اتفاق سے حضرت معاذ کو نماز پڑھتے فَتَرَكَ نَاضِحَهُ وَأَقْبَلَ إِلَى مُعَادٍ فَقَرَأَ بِسُوْرَةِ الْبَقَرَةِ أَوِ النِّسَاءِ فَانْطَلَقَ پایا تو اس نے اپنے اونٹ بٹھا * دئے اور حضرت معاف کی طرف چلا آیا۔حضرت معاذ نے سورہ بقرہ یا الرَّجُلُ وَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ فَأَتَى سورۃ نساء پڑھی تو وہ ( نماز چھوڑ کر ) چلا گیا۔اسے خبر النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ پنچی کہ حضرت معاذ نے اس کو برا منایا ہے۔تو وہ مُعَاذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے پاس حضرت معاذ وَسَلَّمَ يَا مُعَاذُ أَفَتَانُ أَنْتَ أَوْ أَفَاتِنٌ کی شکایت کی تو نبی ﷺ نے تین بار فرمایا: اے معاذ لفظ فتوگ کی بجائے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں قبوگ“ کا لفظ ہے۔(فتح الباری جزر وثانی صفحہ ۲۵۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔