صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 107
صحیح البخاری جلد ۲ ۱۰۷ ١٠ - كتاب الأذان خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي خالد سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے، قیں نے مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ حضرت ابو مسعودؓ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ایک آدمی إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْفَجْرِ مِمَّا نے کہا: یا رسول اللہ ! میں تو صبح کی نماز میں اس لئے پیچھے يُطِيلُ بِنَا فُلَانٌ فِيْهَا فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ رہتا ہوں کہ فلاں اُسے لمبی کر کے ہم پر دو بھر کر دیتا ہے۔ تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ میں نے آپ کو فِي مَوْضِعِ كَانَ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ کی نصیحت میں بھی اس دن سے بڑھ کر غصہ میں نہیں ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِرِيْنَ دیکھا ۔ پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم میں سے ایسے ہیں فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ خَلْفَهُ جو لوگوں کو نفرت دلاتے ہیں۔ پس جو شخص لوگوں کا امام الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ۔ بنے تو چاہیے کہ وہ نماز مختصر پڑھے۔ کیونکہ اس کے پیچھے اطرافه ۹۰ ، ۷۰۲، 6110، 7159۔ کمزور، بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔ ٧٠٥: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۷۰۵ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَارِبُ شعبہ نے ہمیں بتایا ، کہا: محارب بن دثار نے ہم سے بْنُ دِثَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بیان کیا، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ بِنَاضِحَيْنِ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ سامنے سے ایک آدمی پانی وَقَدْ جَمَعَ اللَّيْلُ فَوَافَقَ مُعَادًا يُصَلِّي اُٹھانے والے دو اونٹ لئے آ رہا تھا اور رات ہو چکی تھی فَتَرَكَ نَاضِحَهُ وَأَقْبَلَ إِلَى مُعَادٍ فَقَرَأَ ی اور اس نے اتفاق سے حضرت معاذ کو نماز پڑھتے بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ أَوِ النِّسَاءِ فَانْطَلَقَ پایا تو اس نے اپنے اونٹ بٹھا جو دئے اور حضرت معاف کی طرف چلا آیا۔ حضرت معاذ نے سورہ بقرہ یا الرَّجُلُ وَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذَا نَالَ مِنْهُ فَأَتَى سورۂ نساء پڑھی تو وہ ( نماز چھوڑ کر ) چلا گیا۔ اسے خبر النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ پنچی کہ حضرت معاذ نے اس کو برا منایا ہے ۔ تو وہ مُعَاذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نبی ﷺ کے پاس پاس آ آیا اور آپ کے پاس حضرت معاذ وَسَلَّمَ يَا مُعَاذُ أَفَتَانٌ أَنْتَ أَوْ أَفَاتِنٌ کی شکایت کی تو نبی ﷺ نے تین بار فرمایا : اے معاذ صلى الله لفظ فترک کی بجائے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں "فَبَرک“ کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۲۵۹ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔