صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 105
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۰۵ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ٦١ : تَخْفِيفُ الْإِمَامِ فِي الْقِيَامِ وَإِثْمَامُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ قیام میں امام کا اختصار سے کام لینا اور رکوع و سجود اطمینان کے ساتھ ادا کرنا ۷۰۲ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ ۷۰۲: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ زہیر نے ہمیں بتایا، کہا: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا قَالَ أَخْبَرَنِي کہا : میں نے قیس سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت أَبُو مَسْعُوْدٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللهِ يَا ابو سعود نے مجھے بتایا کہ ایک شخص نے کہا: یارسول رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الله ابخدا میں صبح کی نماز سے فلاں شخص کی وجہ سے الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا پیچھے رہ جاتا ہوں۔ اس لئے کہ وہ ہمیں نماز بھی رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پڑھاتا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةِ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ کسی نصیحت میں اس دن سے زیادہ غصے میں نہیں يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِرِينَ فَأَيُّكُمْ دیکھا۔ آپ نے فرمایا: تم میں بعض نفرت دلانے مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ فِيهِمُ والے ہیں۔ پس تم میں سے جو لوگوں کو نماز پڑھائے الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ۔ تو چاہیے کہ وہ نماز مختصر پڑھے۔ کیونکہ ان میں کمزور اطرافه ۹۰ ، ٧٠٤ ، 6110، 7159۔ بھی ہوتے ہیں اور بوڑھے بھی اور حاجت مند بھی۔ تشريح : تَخْفِيفُ الْإِمَامِ فِي الْقِيَامِ : عنوان باب قائم کرنے میں امام بخاری نے لطیف استدلال سے کام لیا ہے۔ روایت نمبر ۷۰۴۰۷۰۳٬۷۰۲ کے الفاظ فَلْيُخَفِّفُ اور فَلْيَتَجَوَّز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساری نماز ہلکی پڑھے۔ یعنی قرآت میں بھی اور رکوع و سجود اور دیگر ارکان میں بھی اختصار ہو۔ مگر حضرت معاذ کے واقعہ والی روایت نمبر اہ ے سے ظاہر ہے کہ آپ نے لمبی قرآت پر ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا ۔ اس لئے روایت نمبر ۷۰۲ تا ۷۰۴ کے مذکورہ بالا الفاظ کو واضح کرنے کے لئے امام موصوف نے عنوان باب میں اس بات کی تعیین کر دی ہے کہ فَلْيَتَجوز سے مراد قیام میں تخفیف کرنا ہے نہ رکوع و سجود میں ۔ ان میں خشوع و خضوع کی کیفیات پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ حالت نیست نفس، توجہ اور وقت چاہتی ہے۔ روایت نمبر ۷۰۴،۷۰۲ کا تعلق الگ واقعہ کے ساتھ ہے۔ ان میں صبح کی نماز کا ذکر ہے اور حضرت معاذ کا واقعہ الگ ہے۔ ان کے خلاف شکایت عشاء کی نماز کے متعلق کی گئی تھی۔ (دیکھئے روایت نمبر ۷۰ )