صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 106
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۰۶ بَاب ٦٢ : إِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوّلْ مَا شَاءَ جب تنہا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے ١٠ - كتاب الأذان ۷۰۳: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۷۰۳: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِی الزَّنَادِ عَنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّی روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ مِنْهُمُ میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو چاہیے کہ وہ ملکی الضَّعِيفَ وَالسَّقِيْمَ وَالْكَبِيْرَ وَإِذَا پڑھے کیونکہ ان میں کمزور اور بیمار اور بوڑھے بھی صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوّلُ مَا شَاءَ ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی تنہا نماز پڑھے تو جتنا چا ہے لمبی کرے۔تشریح: فَلْيُطَوّلُ مَا شَاءَ : یعنی وقت نماز کے اندر۔ہ نہ ہو کہ نماز کا وقت ہی ختم ہو جائے۔باجماعت نماز در اصل قوم میں یک جہتی اور محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے جو امام اس روح کو نقصان پہنچاتا ہے وہ آنحضور ﷺ کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے کیونکہ آپ کی عارفانہ نظر کا ادراک اس گہرائی تک تھا، جہاں عام انسان کی رسائی نہیں۔آپ جانتے تھے کہ الَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمُ کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا کیا انتظامات فرمائے ہیں۔اس لیے آپ نے اجتماعیت اور یک جہتی کو قائم رکھنے میں کبھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ ہونے دیا۔لیکن اس نکتہ کو بھی آپ کی بصیرت نے فراموش نہیں ہونے دیا کہ عبادت تو بندے اور اس کے خالق کا معاملہ ہے اس لیے آپ نے بتایا کہ بندہ اپنی مناجات اور راز و نیاز اپنے مولا سے انفرادی نماز میں جس قدر چاہے کرے۔باب ٦٣ : مَنْ شَكَا إِمَامَهُ إِذَا طَوَّلَ جو اپنے امام کی جب وہ نماز لمبی کرے؛ شکایت کرے وَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ طَوَّلْتَ بِنَا يَا بُنَيَّ۔اور ابواسید نے کہا: میرے بیٹے تم نے نماز لمبی کر کے ہم پر دوبھر کر دی۔٧٠٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۷۰۴: محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا:) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبي سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل بن ابی