صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 104 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 104

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۰۴ ١٠ - كتاب الأذان فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ فَكَأَنَّ مُعَاذَا تَنَاوَلَ عشاء کی نماز پڑھی اور سورہ بقرہ پڑھی۔ایک شخص چلا گیا۔مِنْهُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاذ نے اس کے متعلق بُرا فَقَالَ فَتَانٌ فَتَانٌ فَتَان ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ منایا۔یہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوپہنچی تو آپ نے تین دفعہ خبر قَالَ فَاتِنَا فَاتِنَا فَاتِنَا وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ فرمایا: تم بہت ہی ابتلاء میں ڈالنے والے ہو۔تم بہت ہی مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّل قَالَ عَمْرُو لَا ابتلا میں ڈالنے والے ہو۔تم تو بہت ہی ابتلا میں ڈالنے والے ہو۔فتانًا فرمایا، یا فَاتِنا اور آپ نے انہیں مفصل أَحْفَظُهُمَا۔اطرافه ۷۰۰، ۷۰۵، ۷۱۱، ٦١٠٦ تشریح: سورتوں میں سے دو درمیانی سورتیں پڑھنے کے لئے فرمایا۔عمرہ کہتے تھے: مجھے وہ دوسورتیں یاد نہیں رہیں۔إِذَا طَوَّلَ الْإِمَامُ وَكَانَ لِلرَّجُلِ حَاجَةٌ فَخَرَجَ فَصَلَّى: امام شافعی روایت مذکورہ بالا سے استدلال کرتے ہیں کہ مقتدی کے لئے جائز ہے کہ حالت اضطراری میں امام کی اقتدا چھوڑ کر الگ نماز پڑھے۔جیسا کہ اسی روایت میں ابن عیینہ کی سند کے ان الفاظ سے ظاہر ہے: فَتَنحى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ فَصَلَّى وَحْدَهُ۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۲۵۲) ایک شخص نے امام کے پیچھے سے ہٹ کر ایک طرف تنہا نماز پڑھ لی۔لیکن روایت مذکورہ کے الفاظ فانصرف ظاہر کرتے ہیں کہ وہ چلا گیا تھا۔مسلم کی روایت میں ہے: فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ - (مسلم - كتاب الصلاة - باب القراءة فى العشاء ) ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نماز چھوڑ دی تھی اور الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔اس شخص پر ناراض نہیں ہوئے کیونکہ وہ مضطر تھا۔(دیکھئے روایت نمبر ۷۰۵) اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ ناچاری کی حالت میں یہ جائز ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کو ہدایت دے کر مقتدیوں کی اس قسم کی مشکلات کا سد باب فرما دیا ہے۔باب نمبر ۶۰ ، ۶۱ ۶۲ میں مثالوں سے واضح کیا گیا کہ امام کو اپنے مقتدیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔اَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّلِ۔سورة الحجرات بإسورة ق سے مفصل سورتیں شروع ہوتی ہیں۔عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ تک مفصل طوال کہلاتی ہیں اور اس کے بعد والضحی تک مفصل اوسط کہلاتی ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۵ صفحه ۲۳۸ تا ۲۳۹) لگا