صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 101
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۰۱ ١٠ - كتاب الأذان غَطِيْطَهُ أَوْ قَالَ خَطِيْطَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى نے آپ کا خرائہ سنا۔ راوی نے لفظ غطيطه يا الصَّلاةِ۔ خَطِيطَہ کہا: اس کے بعد آپ نماز کے لئے نکلے۔ اطرافه: ۱۱۷ ، ۱۳۸ ، ۱۸۳، ۶۹۸، ۶۹۹، ۷۲۸۷۲۶، ۸۵۹، ۹۹۲، ۱۱۳۸، ٤٥٦٩ ، ٤٥٧٠، ٤٥٧١ ، ٤٥٧٢ ، ٥٩١٩، ٦٢١٥، ٦٣١٦، ٧٤٥٢ ،۱۱۹۸ تشريح : يَقُوْمُ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ بِحِذَائِهِ سَوَاءً إِذَا كَانَا اثْنَيْنِ: باب ۵۸،۵۷ میں مقتدی کے مقام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ شریعت اسلامیہ کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر دو نمازی ہوں تو مقتدی امام کے بائیں طرف نہیں بلکہ دائیں طرف کھڑا ہو۔ چنانچہ حضرت ابن عباس جو کہ بچے تھے۔ وہ ایک رات تہجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے ۔ آپ نے نماز کی حالت میں ہی ان کو اپنی دائیں طرف کر لیا۔ شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل در حقیقت مقتدی کے مقام کی نوعیت واضح کرتا ہے۔ یعنی مقتدی کو امام کے داہنی جانب کھڑا ہونا چاہیے۔ جو بائیں جانب کھڑا ہونے کے مقابلہ میں زیادہ عزت کا مقام ہے ۔ ا زیادہ عزت کا مقام ہے۔ امام کا فرض ہے کہ وہ مقتدی کو اپنے قریب اچھی جگہ دے۔ حضور کے اس عمل سے امام اور مقتدی دونوں پر اپنے اپنے فرض کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ه باب ٥٨ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ عَنْ يَسَارِ الْإِمَامِ فَحَوَّلَهُ الْإِمَامُ إِلَى يَمِينِهِ لَمْ تَفْسُدْ صَلَاتُهُمَا جب آدمی امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اس کو پھیر کر دائیں طرف لے آئے تو ان دونوں کی نماز فاسد نہیں ہوگی ٦٩٨ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ حَدَّثَنَا ہا ۶۹۸ : احمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَنْ عَبْدِ ہم سے بیان کیا، کہا: عمرو نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مَّخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عبد ربه ابن سعید سے، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ سے مخرمہ نے حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نِمْتُ عِنْدَ گریب سے، گریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے کہ میں (اپنی خالہ ) عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ حضرت میمونہ کے پاس سویا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم