صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 102
حيح البخاری جلد ۲ ۱۰۲ ١٠ - كتاب الأذان يُصَلِّي فَقُمْتُ عَلَى يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي اس رات ان کے ہاں تھے۔آپ نے وضو کیا۔پھر فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِيْنِهِ فَصَلَّى ثَلَاثَ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور میں بھی آپ کے عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ دائیں طرف کیا اور آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔پھر فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأَ قَالَ عَمْرُو ہوگئے۔یہاں تک کہ آپ نے سانس لی اور جب بُكَيْرًا فَقَالَ حَدَّثَنِى سوتے تو گہری سانس لیتے۔پھر آپ کے پاس مؤذن آیا اور آپ نے باہر جا کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔عمرو نے کہا کہ میں نے بکیر سے یہ بیان کیا تو انہوں فَحَدَّثْتُ به كُرَيْبٌ بِذَلِكَ۔نے کہا: مجھ سے کریب نے اسی طرح بیان کیا تھا۔اطراف فریح: افه ۱۱۷، ۱۳۸، ۱۸۳، ٦۹۷، ٦٩٩، ۷۲۸،۷۲٦، ۸۰۹ ۹۹۲، ۱۱۳۸، ۱۱۹۸، ٤٥٦٩، ٤٥٧٠، ٤٥١ ٤٥٧٢، ۰۹۱۹، ٦۲۱۵، ٦٣١٦، ٧٤٥٢۔فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد سات رکعتوں سے لے کر گیارہ رکعتوں تک پڑھا کرتے تھے۔جہاں تیرہ رکعتوں کا ذکر آتا ہے وہاں فجر کی دو سنتیں نماز تہجد میں شمار کی گئی ہیں۔ان کی تعداد کے متعلق تفصیلی بحث کتاب التهجد باب میں مذکور ہے۔بَاب ٥٩ : إِذَا لَمْ يَنْوِ الْإِمَامُ أَنْ يَؤُمَّ ثُمَّ جَاءَ قَوْمٌ فَأَمَّهُمْ امام کی نیت نہ ہو کہ امامت کرے۔پھر کچھ لوگ آجائیں تو وہ ان کا امام ہو جائے ٦٩٩: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۶۹۹ مرد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : اسماعیل بن إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابراہیم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، ایوب نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ عبدالله بن سعید بن جبیر سے، عبداللہ نے اپنے باپ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُ عِنْدَ خَالَتِي فَقَامَ ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں اپنی خالہ حضرت میمونہ کے ہاں ایک النَّبِيُّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ رات سویا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو اللَّيْلِ فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ فَقُمْتُ عَنْ میں بھی اٹھ کر آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگا اور آپ کے