صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 27 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 27

صحيح البخاری جلد ) تشریح: ۲۷ ا - كتاب بدء الوحي فِي الْمُدَّةِ الَّتِى۔۔۔مَادَّ فِيهَا : میعادی صلح سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں قریش مکہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال تک لڑائی بند رکھنے کا معاہدہ کیا تھا۔اس عرصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیرونی ممالک کے بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے خط لکھے جن میں سے ایک خط ہر قل کے نام بھی تھا۔بوقت صلح ابوسفیان مکہ مکرمہ میں موجود نہ تھے۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۹۱-۹۲) وَقَدْ كُنتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِج۔۔۔: اسلامی تاریخ میں ابوسفیان کی مذکورہ بالا روایت مشہور اور مستند ہے۔علامہ طبری اور دیگر مورخین نے بھی مختلف رادیوں کی سند پر اسے کسی قدر لفظی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔ابوسفیان جو ایک لمبے عرصے تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطرناک دشمن رہ چکے تھے۔وہ ایسا واقعہ بیان کرتے ہیں جو اُن کے ساتھ گذرا اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کو سنانے والے راوی بھی ثقہ ہیں یعنی ابوالیمان حکم بن نافع تمھی۔ایسا ہی شعیب بن ابی حمزہ قریشی اموی بھی بہت ہی ثقہ راوی ہیں جن سے ابوالیمان نے سنا۔پس اصول روایت کے اعتبار سے اس حدیث کی صحت کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔علاوہ ازیں اگر اس روایت کے مختلف اجزاء پر غور کیا جائے اور ان کو بیرونی شہادتوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس روایت میں ہمیں ایسے دلائل اور قرائن ملتے ہیں جو اس کی صحت کو پایہ یقین تک پہنچاتے ہیں۔مثلاً ابوسفیان کا یہ بیان کہ اس نے ہر قل سے بیت المقدس میں صلح حدیبیہ کی معیاد کے زمانہ میں ملاقات کی۔رومانی تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اس عرصہ میں ہر قل بیت المقدس حج کے لیے آیا ہوا تھا۔صلح حدیبیہ ذی القعدہ اھ میں ہوئی اور یہ عیسوی تاریخ کی رو سے اپریل ۶۲۸ کا سال ہے۔ہر قل جور روم کا بادشاہ تھا اپنی فتوحات سے فارغ ہو کر شکرانہ ادا کرنے کے لیے بیت المقدس ۱۲۹ھ میں آیا تھا۔(History Of The Decline And Fall Of The Roman Empire, Vol۔4 Chapter XLVI: Troubles In Persia۔Part IV) اور اسلامی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں قریش مکہ صلح حدیبیہ کے ذریعہ سے اپنے لئے امن کی فضا پیدا کر کے شام کے شہروں کی طرف تجارت کے لئے نکلے ہوئے تھے۔تاکہ سابقہ جنگوں سے جو ان کی حالت نا گفتہ بہ ہورہی تھی، اس کا تدارک کریں۔ابوسفیان کا بیان ہے کہ ہر قل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق واقعات سن کر تصدیق کی اور کہا کہ میں تو پہلے ہی سے جانتا تھا کہ وہ نبی موعود ظاہر ہونے والا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ وہ علوم دینیہ وغیرہ میں ایک بڑے پایہ کا عالم تھا اور یہ کہ عیسائی دنیا اس وقت اس عظیم الشان نبی کے ظاہر ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔بائبل سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایلیا اور مسیح علیہ السلام کے بعد ایک اور نبی کی بعثت کا اُن سے وعدہ تھا۔( استثناء، باب: ۱۸ آیت : ۱۸ - یوحنا، بابا، آیت: ۲۵۔اعمال، باب ۳، آیت ۱۹) ( تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب فصل الخطاب حصہ دوم ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بعض عیسائیوں نے بھی فارقلیط “ اور ”روح حق ہونے کا دعویٰ کیا جو مقبول نہیں ہوا۔جیسے مونطینی نے یہ دعویٰ کیا۔دیکھئے: 1۔Roman Church History 2۔Encyclopedia of Religion and Ethics, under word: Montanism