صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 26
صحيح البخاری جلد ا ا - كتاب بدء الوحي نَظِيْرَهُ فِي الْعِلْمِ وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى اس کا ہم پایہ تھا، اس کے متعلق لکھا اور ہر قل نے حمص کی حِمْصَ فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى أَتَاهُ طرف کوچ کیا اور ابھی حمص سے گیا نہیں تھا کہ اس کو اس كِتَابٌ مِّنْ صَاحِبِهِ يُوَافِقُ رَأْيَ هِرَقْلَ کے دوست کا خط ملا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر ہو عَلَى خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ جانے کے متعلق اس سے متفق ہے اور یہ کہ وہ یقینا نبی ہیں۔اس پر ہرقل نے سردارانِ روم کو حمص میں اپنے وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ نَبِيٌّ فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ ایک محل میں اکٹھا ہونے کے لئے فرمان جاری کیا (اور الرُّوْمِ فِي دَسْكَرَةٍ لَّهُ بِحِمْصَ ثُمَّ أَمَرَ جب وہ آگئے ) تو حکم دیا کہ دروازے مقفل کر دیئے بِأَبْوَابِهَا فَغُلِقَتْ ثُمَّ اطَّلَعَ فَقَالَ يَا جاویں۔چنانچہ وہ مقفل کئے گئے۔اس کے بعد وہ اوپر مَعْشَرَ الرُّوْمِ هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ سے جھانکا اور کہا: اے رومی لوگو! کیا تمہیں اپنی بہبودی وَالرُّشْدِ وَأَنْ يَّثْبُتَ مُلْكُكُمْ فَتَبَايِعُوا اور بھلائی کی خواہش ہے؟ اور کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری بادشاہت قائم رہے تو پھر تم اس نبی کی بیعت کر لو۔اس پر هَذَا النَّبِيَّ فَحَاصُوْا حَيْصَةَ حُمُرِ وہ دروازوں کی طرف جس طرح جنگلی گدھے بھاگتے الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ ہیں بھاگے مگر انہوں نے دروازوں کو بند پایا۔جب ہرقل غُلِقَتْ فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ نَفْرَتَهُمْ وَأَيسَ نے ان کی یہ نفرت دیکھی اور ان کے ایمان سے مایوس ہو مِنَ الْإِيْمَانِ قَالَ رُدُّوهُمْ عَلَيَّ وَقَالَ گیا تو اس نے کہا: انہیں میرے پاس واپس بھیج دو۔اور إِنِّي قُلْتُ مَقَالَتِي آنفًا أَخْتَبِرُ بِهَا کہا: میں نے جو بات ابھی کہی تھی وہ تو اس لیے کہی تھی کہ شِدَّتَكُمْ عَلَى دِيْنِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ تا میں آزمائش کر لوں کہ تم اپنے دین میں کہاں تک فَسَجَدُوْا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ فَكَانَ ذَلِكَ مضبوط ہو۔سو میں نے یہ بات دیکھ لی۔تب وہ اس کے آخِرَ شَأْنِ هِرَقْلَ سامنے سجدہ بجالائے اور اس سے راضی ہو گئے اور یہ ہر قل کی آخری حالت تھی۔{قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ * } رَوَاهُ صَالِحُ بنُ (ابو عبد اللہ نے کہا: ) اس حدیث کو صالح بن کیسان كَيْسَانَ وَيُؤْنُسُ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔اور یونس اور معمر نے بھی زہری سے روایت کیا۔اطرافه: ٥۱، ٢٦٨١، ٢٨٠٤، ٢٩٤١، ۲۹۷۸، ۳۱۷، ٤٥٥۳، ٥٩٨٠، ٦٢٦٠، ٧١٩٦، ٧٥٤١۔الفاظ قَالَ أَبُو عَبْدِ الله فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۴۶)