صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 20
صحيح البخاری جلد ا ا - كتاب بدء الوحي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ تھے اور آپ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔تھے۔اس وقت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش اطرافه ۱۹۰۲، ۳۲۲۰، ٣٥٥٤ ٤٩٩٧۔لانے والی ہوا سے بھی زیادہ بھی ہوتے۔باب ٦ ( : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ : ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ نَافِعٍ قَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِیِ شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بن زہری نے ) کہا : عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بن مسعود نے عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ مجھے بتلایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے ان کو بتلایا کہ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبِ أَخْبَرَهُ ابوسفيان بن حرب نے ان سے ذکر کیا کہ ہر قل نے اسے مع قافلۂ قریش کے بلوا بھیجا اور وہ سب شام میں بغرضِ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِّنْ تجارت گئے ہوئے تھے۔یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جبکہ قُرَيْشٍ وَكَانُوْا تِجَارًا بِالشَّامِ فِي الْمُدَّةِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان اور منکرین قریش الَّتِي كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے ساتھ میعادی صلح کی ہوئی تھی۔وہ اس کے پاس آئے وَسَلَّمَ مَادَّ فِيْهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ اور وہ بیت المقدس میں تھا۔اس نے انہیں اپنی مجلس میں قُرَيْشٍ فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِبْلِيَاءَ فَدَعَاهُمْ فِي بلوایا اور اس وقت اس کے ارد گرد رومی رؤسا موجود تھے۔مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّوْمِ ثُمَّ ہر قل نے ان کو آگے بلایا اور اپنے ترجمان کو بھی بلایا۔اس دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ نے پوچھا کہ رشتہ میں تم میں سے کون زیادہ قریبی ہے اس أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ شخص کا ؛ جو کہتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ابوسفیان کہتے تھے کہ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَقُلْتُ أَنَا میں نے کہا: ان لوگوں میں سے میں رشتہ میں زیادہ قریبی ہوں۔اس پر اس نے کہا: اس کو میرے نزدیک کرو اور اس أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا فَقَالَ أَدْنُوْهُ مِنِّي وَقَرِّبُوْا کے ساتھیوں کو بھی قریب کرو اور انہیں اس کی پیٹھ کے پیچھے أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوْهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ رکھو۔پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: انہیں کہ دو کہ میں لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَّهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ اس سے اُس شخص سے متعلق دریافت کرنے لگا ہوں۔فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ” و “ ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفی ۴۳) الفاظ عَن هذا فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفہ ۴۴)