صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 16
صحيح البخاری جلد ا ا - كتاب بدء الوحي سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ طرح ہلاتا ہوں جس طرح میں نے حضرت ابن عَبَّاسِ يُحَرِّكُهُمَا فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ عباس کو ہلاتے دیکھا۔چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹ اللهُ تَعَالَى لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بلائے۔اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: لا بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ (القيامة: ۱۷-۱۸) تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه۔(یعنی) تو اپنی قَالَ جَمْعَهُ لَكَ فِي صَدْرِكَ وَتَقْرَأَهُ زبان کو اس کے ساتھ نہ ہلا؛ اس غرض سے کہ تو اسے جلدی سے حفظ کرلے۔اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ۔فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ (القيامة:١٩) (حضرت ابن عباس نے ) کہا: جمع کرانے اور پڑھانے قَالَ فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا سے مراد یہ ہے کہ تمہارے لئے تمہارے سینہ میں اس بَيَانَهُ (القيامة: ٢٠) ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ کو محفوظ کر دیں گے اور تو اسے پڑھ لے گا۔فَإِذَا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعُ قُرانَہ۔(حضرت ابن عباس نے ) کہا: بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا اس سے مراد یہ ہے کہ تو کان لگا کر چپکے سے اسے سنتا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ جا ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ یعنی پھر یہ ہمارا کام ہوگا کہ تو اسے ٹھیک ٹھیک پڑھ لے۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی جبرائیل آتے تو توجہ سے سنتے اور جب جبرائیل چلے جاتے تو نبی ہے اسے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأَهُ۔اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل نے پڑھا ہوتا۔اطرافه ۱۹۲۷، ۱۹۲۸، ٤۹۲۹، ٥٠٤٤، ٧٥٢٤۔تشریح: قَالَ ابْنُ عَبَّاس فَأَنَا أُحَرِّكُهُمَا لَكُمْ۔۔۔۔اس روایت پر محققین نے ایک اعتراض وارد کیا ہے که لا تُحرک بِهِ لِسانک کی آیت جو سورۃ القیامۃ میں ہے اس ابتدائی وحی میں سے ہے جو مکہ میں نازل ہوئی جبکہ حضرت عبد اللہ بن عباس پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔کیونکہ ان کی پیدائش ہجرت سے تین سال قبل ہوئی تو حضرت عبد اللہ بن عباس کو یہ کیسے علم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہونٹ ہلایا کرتے تھے اور انہوں نے سعید ابن جبیر کو بڑے وثوق سے اپنے ہونٹ ہلا کر دکھلائے کہ یوں ہلایا کرتے تھے۔پھر علاوہ ازیں یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم لا تُحرک به لیسانگ کے حکم کے بعد خاموش ہو کر سنتے اور اپنے ہونٹ نہ ہلاتے۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا صحابہ نے انہیں بتلایا تھا تو پھر انہوں نے اس کا ذکر کیوں نہیں کیا ؟ علاوہ ازیں یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے پا یہ اعتبار سے ساقط ہے۔مگر باوجود اس اعتراض اور سقم کے علامہ ابن حجر اور عینی اور قسطلانی جیسے