صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 8 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 8

صحيح البخاری جلد ا A ا - كتاب بدء الوحي تشریح : اس حدیث سے چار باتیں معلوم ہوتیں ہیں :۔اول یہ کہ زمانہ نبوت سے پہلے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچی خوا ہیں آیا کرتی تھیں اور آپ جو خواب دیکھتے وہ کمال صفائی سے اور یقینی طور پر پورے ہو جاتے۔كَفَلَقِ الصُّبح کا یہی مفہوم ہے۔نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کچی خوابوں کو جو وحی کی قسم سے شمار کیا ہے تو یہ اس لئے کہ خواب کی کیفیت ہی دراصل وہ طبعی استعداد ہے جو ترقی کرتے کرتے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور علم کے ظاہر ہونے کے لئے بطور آئینہ کے کام دیتی ہے اور بالآخر انسان پر وحی کی اعلیٰ سے اعلیٰ تجلیات ظاہر ہوتی ہیں اور یہ طبعی استعداد پیج کے طور پر انسان میں موجود ہے۔اسی لئے ہر انسان نیک ہو یا بد؟ کوئی نہ کوئی سچی خواب دیکھ لیتا ہے تا اس کے لئے نبوت کی حقیقت کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔کیونکہ جس آنکھ میں نور ہوتا ہے وہی آنکھ نور آفتاب کو بھی دیکھتی ہے اور اس کی کیفیت کو بھی تصور میں لاسکتی ہے۔غرض خواب کی قابلیت بطور ایک طبعی مبدء اور مصدر کے ہے اور اسی وجہ سے احادیث نبویہ میں بچے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔(بخارى۔كتاب التعبير۔باب الرؤيا الصالحة جزء من ستة وأربعين جزء من النبوة: ۶۹۸۹) اور حضرت عائشہ نے بھی یہاں اسی وجہ سے آپ کی خوابوں کو وحی میں شامل کیا ہے۔دوسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خالص محبت تھی اور یہ محبت آپ کے دل میں فطر نا تھی جو دن بدن ترقی کرتی گئی۔آخر اس خالص محبت کی وجہ سے مجبور ہو کر آپ نے دنیا کے تعلقات سے کنارہ کشی کی اور آپ غار حرا میں جو مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے گوشہ نشین ہو گئے اور وہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہنے لگے۔حُبّبَ إِلَيْهِ الْخَلاءُ میں جو صیغہ مجہول استعمال کیا گیا ہے، وہ یہی راز بتلانے کے لئے ہے کہ یہ محبت اپنے اختیار کی بات نہ تھی۔کسی بالائی طاقت نے آپ کا منہ دنیا سے موڑ دیا تھا اور تمام انبیاء کے متعلق یہی سنت الہی چلی آتی ہے۔فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ : تَحَنُّت کے معنی عبادت کرنا۔قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کسی معین شکل وصورت کی عبادت سے متعارف نہ تھے۔جیسا کہ فرمایا: مَا كُنتَ تَدْرِى مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيْمَانُ۔(الشوری: ۵۳) یعنی تجھے عبادت کا کوئی طریق معلوم نہ تھا۔اس لئے آپ اپنی زبان میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے تھے۔دعا عبادت کا اصل مغز اور روح ہے۔وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِي ذَوَاتِ الْعَدَدِ : چند گنتی کی راتیں عبادت کیا کرتے تھے۔حَتَّی جَاءَهُ الْحَقُّ سے مراد ایک تو کامل معرفت ہے۔اللہ تعالیٰ کے متعلق کامل معرفت روحانی مشاہدات اور تجلیات وحی کے ذریعے سے ہی ہوتی ہے۔محض عقل اس مقام معرفت تک قطعا نہیں پہنچا سکتی۔عقل تو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق صرف ” ہونا چاہیئے“ کے مقام تک ہمیں پہنچاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ہمارے سامنے بہت سے احتمالات پیش کر دیتی ہے۔عقل کا یہ نقص وحی الہی سے دور ہوتا ہے۔عقل اور وحی میں آپس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے لئے بطور مد کے ہیں۔عقل کا تعلق زمین سے ہے اور وحی کا تعلق آسمان سے اور دونوں کے اتصال سے کامل نور اسی طرح پیدا ہوتا ہے جس طرح زمینی آنکھ کی