صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 5 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 5

صحيح البخاری جلد ا ایک حد تک برقرار رہتا ہے۔ا - كتاب بدء الوحي وحی کے معنی ہیں بات کو سرعت سے پہنچانا (لسان العرب تحت لفظ و حی) اور یہ مفہوم ہر ایک قسم کی وحی میں پایا جاتا ہے۔گو اس کی کیفیتیں مختلف ہوں۔جیسی طبیعتیں ہوں گی۔ویسی ہی وحی کی کیفیت میں بھی تبدیلی ہوتی چلی جائے گی اور وہی خواہ بصورت آواز یا الفاظ متکلیف ہو یا بشکل تمثلات ملکیہ ظاہر ہو۔ہر بشری طبیعت کے ساتھ جدا گانہ کیفیت رکھتی ہے اور اس کا ادراک کرنا دوسرے انسان کے لئے ایسا ہی مشکل امر ہے جیسے ذائقہ کی کیفیت کا ادراک کرنا بغیر تجر بہ مشکل ہے اسی لئے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن ہشام کو دو موٹی مثالیں دے کر دو صورتیں سمجھائی ہیں۔یہ حضرت حارث بن ہشام ابو جہل کے حقیقی بھائی تھے جو فتح مکہ میں مسلمان ہوئے اور شام کی فتوحات میں شہید ہوئے۔جلیل القدرصحابہ میں سے تھے اور علامہ ابن حجر اور قسطلانی وغیرہ مشہور علماء کی یہی رائے ہے کہ حضرت عائشہ اس وقت پاس ہی موجود تھیں جب حضرت حارث بن ہشام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا۔(فتح البارى جزء اول صفحه(۲۵) (ارشاد السارى للقسطلاني جزء اول صفحه ۵۷) باب ۳ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا : ہم سے سجی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ہمیں بتلایا۔لیث نے عقیل سے عقیل نے ابن شہاب عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمّ سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ اُم المؤمنین سے روایت کی کہ وہ کہتی الْمُؤْمِنِيْنَ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ تھیں: پہلے پہل جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع ہوئی وہ نیند میں سچی خوابوں کا دیکھنا تھا۔آپ جو الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ خواب بھی دیکھتے وہ صبح صادق کی طرح واقع ہو جاتی۔فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ اس کے بعد آپ کو تنہائی کی طرف رغبت ہوئی اور آپ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ وَكَانَ غار حرا میں تنہا رہتے اور اس میں عبادت کرتے۔یہ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيْهِ وَهُوَ عِبادت چند گفتی کی راتوں کی تھی جسے آپ پیشتر اس کے التَّعَبُدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ کہ آپ کو اپنے گھر والوں سے ملنے کی خواہش ہوتی يُنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ پورا کر لیتے اور اس کے لئے آپ توشہ لے لیتے۔پھر يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا کچھ مدت بعد حضرت خدیجہ کے پاس واپس آتے اور