صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 6
صحيح البخاری جلد ا ا - كتاب بدء الوحي حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ اتنی ہی راتوں کے لئے اور زاد لے لیتے۔آخر آپ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ مَا أَنَا کے پاس حق آ گیا اور اس وقت آپ غار حرا میں تھے۔بِقَارِئِ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: پڑھو۔آپ مِنِّي الْجُهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ نے کہا: میں تو ہرگز نہیں پڑھوں گا۔رسول اللہ ہے قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئِ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي فرماتے تھے: اس پر اُس نے مجھے پکڑا اور مجھے اس قدر الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدُ ثُمَّ بھینچا کہ میری طاقت اپنے انتہاء کو پہنچ گئی۔پھر اس نے مجھ کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا: پڑھو۔میں نے کہا: میں نہیں أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي پڑھوں گا۔پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ اس زور سے بھینچا ( کہ میں بے ہوش ہو گیا۔) پھر اس نے مجھے فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو۔میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔دیا خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ پھر اس نے مجھے پکڑا اور سہ بارہ زور سے بھینچا۔پھر اس الْأَكْرَمُ (العلق : ٢-٤) فَرَجَعَ بِهَا نے مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا: اقْرَ بِاسمِ رَبِّكَ۔۔۔یعنی رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پڑھو اپنے رب کا نام لے کر کہ جس نے پیدا کیا۔يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ انسان کو پیدا کیا ایک لوتھڑے سے۔پڑھو اور تمہارا رب بِنْتِ خُوَيْلِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ بہت ہی کریمانہ صفات والا ہے۔ان آیات کو لے کر زَمِلُوْنِي زَمِّلُوْنِي فَرَمَّلُوْهُ حَتَّى ذَهَبَ رسول اللہ واپس لوٹے۔آپ کا دل دھڑک رہا عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا تھا۔آپ حضرت خدیجہ بنت خویلد کے پاس آئے اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو۔مجھے کپڑا اوڑھا دو۔چنانچہ الْخَبَرَ لَقَدْ خَشِيْتُ عَلَى نَفْسِي انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک کہ آپ سے فَقَالَتْ خَدِيجَةُ كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيْكَ گھبراہٹ جاتی رہی تب آپ نے حضرت خدیجہ سے اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ سارا واقعہ بیان کیا اور کہا: مجھے تو اپنی جان کا اندیشہ ہو الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِي گیا ہے۔اس پر حضرت خدیجہ نے کہا: ہر گز نہیں۔بخدا الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ آپ کو اللہ بھی رسوا نہیں کرے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے