صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 6 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 6

صحيح البخاري - جلد ) ا - كتاب بدء الوحي حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ اتنی ہی راتوں کے لئے اور زاد لے لیتے ۔ آخر آپ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ مَا أَنَا کے پاس حق آ گیا اور اس وقت آپ غار حرا میں تھے۔ بِقَارِئِ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: پڑھو۔ آپؐ صلى الله عروسه مِتِي الْجُهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ نے کہا: میں تو ہر گز نہیں پڑھوں گا۔ رسول اللہ ﷺ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئِ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي فرماتے تھے: اس پر اس نے مجھے پکڑا اور مجھے اس قدر الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدُ ثُمَّ بھیجا کہ میری طاقت اپنے انتہاء کو پہچ گئی۔ پھر اس نے مجھ کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا: پڑھو۔ میں نے کہا: میں نہیں أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئِ اور دوبارہ اس زور فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ اس سے بھینچا ( کہ میں بے ہوش ہو گیا۔ ) پھر اس نے مجھے فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ پھر اس نے مجھے پکڑا اور سہ بارہ زور سے بھینچا۔ پھر اس الْأَكْرَمُ (العلق : ٢-٤) فَرَجَعَ بِهَا نے مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا: اقْرَأَ بِاسْمِ رَبِّكَ ۔۔۔ یعنی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پڑھو اپنے رب کا نام لے کر کہ جس نے پیدا کیا۔ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ انسان کو پیدا کیا ایک لوتھڑے سے۔ پڑھو اور تمہارا رب بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ بہت ہی کریمانہ صفات والا ہے۔ ان آیات کو لے کر صلى الله عليه زَمَلُوْنِي زَمِّلُوْنِي فَزَمَّلُوْهُ حَتَّى ذَهَبَ رسول اللہ واپس لوٹے ۔ آپ کا دل دھڑک رہا عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا تھا۔ آپ حضرت خدیجہ بنت خویلد کے پاس آئے اور الْخَبَرَ لَقَدْ خَشِيْتُ عَلَى نَفْسِي کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ چنانچہ انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک کہ آپؐ سے فَقَالَتْ خَدِيجَةُ كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ وہ گھبراہٹ جاتی رہی جب آپ نے حضرت خدیجہ سے اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ سارا واقعہ بیان کیا اور کہا: مجھے تو اپنی جان کا اندیشہ ہو الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِي گیا ہے ۔ اس پر حضرت خدیجہ نے کہا: ہرگز نہیں۔ بخدا الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ آپؐ کو اللہ بھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے